BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد کی تقسیم سے ماورا

 پیپل کا درخت
پیپل کا یہ درخت خود اپنے آپ میں ایک کہانی ہے
سرحدیں انسانوں کو آر پار جانے سے روک سکتی ہیں لیکن وہ اپنے درمیان درختوں کو اگنے سے نہیں روک سکتیں۔

ایسا ہی ایک پرانا پیپل کا درخت ہندوستان اور پاکستان کی سرحد کے درمیان کھڑا ہے۔ اس کا آدھا حصّہ ہندوستان میں اور آدھا پاکستان میں ہے۔ اس کا سایہ بھی سورج کی گردش کے ساتھ ساتھ اپنی سرحدیں بدلتا رہتا ہے۔

جمّوں کے آر ایس پورہ سیکٹر کے سچیت گڑھ علاقے میں ایک پرانی محصول چوکی کے ٹھیک سامنے پیپل کا یہ درخت خود اپنے آپ میں ایک کہانی ہے۔

جمّوں سیالکوٹ روڈ جو کسی زمانے میں جمّوں آنے کے لیے واحد سڑک ہوا کرتی تھی تقسیم کے بعد بند کر دی گئی تھی۔ یہ محصول چوکی اسی سڑک پر واقع ہے۔ یہاں محصول کی ایک عمارت ہے جس میں اب صرف بی ایس ایف کے اہلکار ہی رہتے ہیں۔

جمّوں سیالکوٹ سڑک اب بھی اچھی حالت میں ہے لیکن یہاں سے صرف اقوام متحدہ کے مبصرین ہی آجا سکتے ہیں۔

اس سڑک کو بند کرنے کے بعد دونوں جانب سے لوہے کے دو بڑے بڑے دروازے لگا دیے گئے ہیں۔ دونوں دروازوں کے درمیان کی زمین زیرو لائن ہے۔ پیپل کا یہ درخت اسی زیرو لائن میں ہے۔ یہ درخت ہی اب دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی ستون کا کام کر رہا ہے۔

اس درخت کا آدھا حصہ ہندوستان اور آدھا پاکستان میں ہے۔ ایک اعلی فوجی افسر نے بتایا کہ یہ وہی درخت ہے جس کے سائے میں 1974 میں دونوں ملکوں کے اعلی فوجی افسران نے سرحد کا نقشہ ایک دوسرے کو دیا تھا اور اس بات پر آمادگی ظاہر کی تھی کہ وہ سرحد کا احترام کریں گے۔

News image
پاک بھارت سرحد کا ایک منظر

پیپل کا یہ درخت کئی تاریخی فلیگ میٹنگز کا بھی گواہ ہے۔ جب دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر تھےاس وقت بھی دونوں ممالک کےفوجی افسران بھی اسی پیڑ کے نیچے ملا کرتے تھے۔

بی ایس ایف اور پاکستانی رینجرز کے درمیان جو خط و کتابت ہوتی ہے اس کا تبادلہ بھی اسی پیڑ کے نیچے ہوتا ہے۔

اسی علاقےسے کسی زمانے میں جمّوں سیالکوٹ ریل بھی گزرتی تھی۔ جوجمّوں کو پاکستان کے پنجاب سے جوڑتی تھی ۔ اس وقت کے ایک ریلوے اسٹیشن کی عمارت آر ایس پورہ میں اب بھی موجود ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ ریلوے لائن غائب ہو گئی ہے لیکن اسٹیشن کے باہر وہ لیور اب بھی موجود ہے جو اس وقت ٹریک بدلنے کے کام آتا تھا۔ یہ تاریخی عمارت اب زمین کے ریکارڈ رکھنے کے دفتر میں تبدیل کر دی گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد