جموں۔سیالکوٹ: نئی امیدیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرینگر مظفرآباد بس سروس کے آغاز کے بعد اب جمّوں اور سیالکوٹ کے درمیان سرحد کھلنے کی امیدیں بھی پیدا ہوگئی ہیں۔ جمّوں کے وسط میں واقع وکرم چوک میں جہاں اب ریاستی روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کا ور کشاپ ہے اسی مقام پر کسی زمانے میں شمال مغربی ریلوے کا اسٹیشن ہوا کرتا تھا اور جہاں سے بڑی تعداد میں لوگ روزانہ سیالکوٹ جایا کرتے تھے۔ 1954 میں ریاستی حکومت نے اس مقام پر ورکشاپ تعمیر کرایا تھا۔ تعمیر کے کئی سال گزرنے کے بعد بھی یہاں پر ریل کی پٹڑی اور پلیٹ فارم موجود تھے۔
روڈ ٹرانسپورٹ محکمہ کے ایک ملازم نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے ریلوے پٹڑی کے نشانات دکھائے جہاں سے ریل گزرا کرتی تھی۔ جمّوں سے سیالکوٹ گیارہ کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ جمّوں کے ایک تاجر راج کمار پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں ’ہم لوگ اکثر تجارت کے سلسلے میں سیالکوٹ اور کبھی لاہور جایا کرتے تھے۔ اس زمانے میں بس کا کرایہ چار آنے ہوتا تھا جب کہ ریل سے سیالکوٹ تک صرف تین آنے کرایہ تھا۔‘ انگریزوں کے زمانے میں شمال مغربی ریلویز نے لاہور تک ریل کا کام 1870 میں ختم کیا اور 1879 میں جہلم تک ریل چلنے لگی۔ لاہور کے بعد جمّوں سیالکوٹ کے درمیان بھی ریل شروع ہوگئی۔ یہ ریل لائن وزیرآباد جنکشن پر ملا کرتی تھی۔ تقسیم کے فوراً بعد اس خطے ميں فسادات بھڑک اٹھے اور لوگوں نے ریلوے لائن اکھاڑ دی ۔1947 کے بعد اس حصے میں ریلوے لائن بیکار ہو گئی۔ جموں اور سیالکوٹ کے درمیان جو سڑک تعمیر کی گئی وہ بھی ہمیشہ کے لیے بند کر دی گئی۔ جموں کے ایک باشندے رشیداحمد نے بتایا کہ ’مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وکرم چوک کے وسط میں ریلوے اسٹیشن ہوا کرتا تھا۔ اس وقت لوگ بڑی تعداد میں سیالکوٹ جایا کرتے تھے ۔ جب ریل آتی یا جاتی تھی تو ریلوے اسٹیشن پر کافی رونق ہوا کرتی تھی۔‘ جمّوں سے لوگ اکثر خریدو فروخت کے لیے جایا کرتے تھے ۔ نوجوان لوگ کام کے بہانے سیالکو ٹ میں فلم دیکھنے جایا کرتے تھے کیوں کہ سیالکوٹ میں اس وقت سنیما گھر بن چکے تھے۔ جموں کی ٹھنڈی ہوا’دو دو‘ بہت مشہور تھی۔75سالہ رشی پال سنگھ بتاتے ہیں ’ہمارے دوست اکثر سیالکوٹ سے یہاں پکنک کے لیے آتے تھے اور انہیں رات میں ہمارے گھروں کی چھتوں پر ہی سونا اچھا لگتا تھا۔‘ جموں سیالکوٹ روڈ اور ریل لائن ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ خطے کے عوام انتہائی پر امید ہیں کہ شاید 57 سال سے بند یہ راستہ ایک بار پھر پہلے کی طرح کھل جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||