BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 July, 2007, 10:57 GMT 15:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ماریشس کے بہاریوں کی مدد‘

ماریشس
ماریشس کی آدھی سے زیادہ آبادی کا تعلق بہار اور متصلہ ریاستوں سے ہے
تقریباً ڈیڑھ دو سو سال پہلے بہار سے ماریشس جا کر بسنے والے لاکھوں بہاریوں کو ان کے آباء و اجداد کے بارے میں معلومات دینے کے لیے ریاستی حکومت نے خصوصی انتظامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ریاست بہار کی وزارتِ فن و ثقافت کے پرنسپل سیکرٹری انجنی کمار سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ ماریشس کے لوگ جب بہار آتے ہیں تو انہیں اپنے آبائی علاقوں کی تلاش میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’اسی پریشانی کو دور کرنے لیے ریاستی حکومت نے پٹنہ میں ایک سیل بنانے کا فیصلہ کیا ہے جہاں تمام معلومات کمپیوٹر پر دستیاب ہوں گی‘۔

انجنی کمار سنگھ نے بتایا کہ ماریشس کی سوا بارہ لاکھ کی آبادی میں آدھی سے زیادہ کا تعلق بہار اور اس سے متصل ریاستوں سے ہے اور خود ماریشس کے وزیراعظم نوین چندر رام غلام کے خاندان کا تعلق بھی بہار سے ہے۔

ان کے مطابق’ایسے لوگ جب بہار پہنچتے ہیں تو انہیں صرف جس جہاز سے ان کے آباء ماریشس گئے تھے، اس کا نمبر اور ریاست کے پرانے ضلع کا نام معلوم ہوتا ہے۔ اب بہار میں ضلعوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی ہے کہ صرف ان دو اطلاعات سے اپنے آبائی گھر کا پتہ لگانا مشکل ہوتا ہے‘۔

وزارتِ فن و ثقافت کے پرنسپل سیکرٹری کے مطابق اب بہار کی حکومت’ٹریس یوئر روٹ‘ پروگرام کے تحت ریاست کے ڈسٹرکٹ گیزیٹیرز، پٹنہ میں دستیاب آرکائیوز اور ماریشس کے مہاتما گاندھی انسٹی ٹیوٹ کی مدد سے تفصیلی اطلاعات مہیا کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

اسی حوالے سے بہار کے وزیراعلیٰ بھی ایک وفد کے ہمراہ کے ماریشس جا رہے ہیں۔ انجنی سنگھ نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کے دورے کا اصل مقصد ثقافتی تعلقات کو فروغ دینا ہے لیکن اگر ماریشس کے بہاری ریاست میں سرمایہ کاری میں دلچسپی لیتے ہیں تو ان کی پوری مدد کی جائےگی۔

ثقافتی تعلقات کو مضبوط کرنے کے مقصد سے ہی نامور بھوجپوری گلوکار منوج تواری بھی اپنی ٹیم کے ساتھ ماریشس جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ماریشس کی ایک بڑی آبادی جن میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل ہیں، اب بھی بھوجپوری زبان بولتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد