’بہاریوں‘ کے بارے میں متنازعہ بیان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دلی کی وزیر اعلی شیلا دکشت کے بہار اور اترپردیش کے لوگوں سے متعلق ایک متنازعہ بیان پر زبردست نکتہ چینی ہو رہی ہے۔ حزب اختلاف سمیت مرکز میں حکمراں جماعت کانگریس کی اتحادی جماعت راشٹریہ جنتادل اور سماج وادی پارٹی نے شیلا دکشت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ بدھ کو محترمہ دکشت نے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ دارالحکومت دلی میں بہار اور اترپردیش کے لوگوں کی موجودگی کےسبب شہر کے نظام کو درست رکھنے ميں پریشانی ہو رہی ہے۔ بی جے پی، سماجوادی پارٹی اور راشٹریہ جنتا دل کے ارکان پارلیمان نے جمعرات کو اس مسئلہ کو لوک سبھامیں اٹھایا۔ اس کے بعد اس پر زبردست ہنگامہ آرائی ہو ئی جس کے سبب سپیکر کو لوک سبھا کی کاروائی دن بھر کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔ لوک سبھا میں سماج وادی پارٹی کے ارکان پارلیمان شیلا دکشت کے خلاف نعرے بازی کرتےہوئے سپیکر کے' ویل' کے پاس پہنچ گئے تو راشٹریہ جنتادل کے ارکان پارلیمان دیوندر پرساد یادو کی سربراہی میں شیلا دکشت سے مستعفی ہونے کے مطالبہ کیا۔ بی جے پی کے ارکان پارلیمان نے بھی لوک سبھا میں شیلا دکشت کے خلاف نعرے لگائے۔ وزیراعلی شیلا دکشت کا کہنا تھا کہ’ دلی میں ہر برس تقریبا پانچ لاکھ افراد دوسری ریاستوں سے نقل مکانی کرکے دلی آتے ہیں جس کی وجہ سے بنیادی سہولتیں فراہم کرانا ایک مشکل عمل بن جاتا ہے‘۔ سیاسی جماعتوں کی مخالفت کے بعد شیلا دکشت اپنے بیان سے فورا منحرف ہوگئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میرا ارادہ کسی ریاست کے باشندوں کے جذبات کو مجروح کرنا نہیں تھا میں تو خود ہی اترپردیش کی ہوں اور میں ایسا کیسے سوچ سکتی ہوں‘۔ خیال رہے کہ کئی ریاستوں کے لوگ روزی روٹی کی تلاش میں بڑے بڑے شہروں میں نقل مکانی کرتے ہیں اور ان شہروں میں دلی بھی شامل ہے۔لیکن نقل مکانی کرنے والے افراد بھی شہر کی مجموعی ترقی میں شامل رہتے ہیں ۔عام خیال ہے کہ دلی کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں بہار اور اترپردیش کے لوگوں کا اہم کرادر ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے جب کسی سیاسی رہنما نے اترپردش اور بہار کے عوام کے خلاف اس طرح کی بات کی ہو۔ مہاراشٹر اور آسام میں سیاسی اور مقامی باشندوں نے تو بہار اور اترپردیش کی عوام پر حملے بھی کیے ہیں۔ | اسی بارے میں سب سے بڑا مسافر طیارہ دلی میں06 May, 2007 | انڈیا متنازعہ سی ڈی، رہنماؤں کی پیشی09 April, 2007 | انڈیا شیبو سورین نے استعفیٰ دے دیا24 July, 2004 | انڈیا ’وزیر اعظم سونیا قبول نہیں‘15 May, 2004 | انڈیا بی جے پی نے ہار مان لی13 May, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||