ماؤ باغیوں کا حملہ، نو اہلکار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشتبہ ماؤ باغیوں نے بھارت کے وسطی علاقے چھتیس گڑھ میں بارودی سرنگوں کے دھماکے کر کے نو پولیس اہلکاروں کو ہلاک جبکہ تین کو زخمی کر دیا ہے۔ دارالحکومت دلی سے جنوب مشرق میں تقریباً پندر سو کلومیٹر دور چھتیس گڑھ کے علاقے کوندر میں پولیس اہلکار ماؤ باغیوں کو تلاش کر رہے تھے جب ان پر حملہ ہوا۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ زخمیوں کو ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ ایک اور واقعہ میں آندھرا پردیش کے ضلع وشاکاپٹنم میں بھی مشتبہ ماؤ باغیوں نے حملہ کر کے حکمراں جماعت کانگریس کے مقامی رہنماء ایس روی شنکر کو ان کے گاؤں حکمپٹ میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔
ماؤ نواز باغیوں نے حالیہ مہینوں میں اپنی کارروائیاں بڑھا دی ہیں۔ مارچ میں مشتبہ ماؤ باغیوں نے چھتیس گڑھ کے دور دراز جنگلوں میں ایک پولیس تھانے پر حملہ کر کے 55 پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔ آندھرا پردیش میں ماؤ باغیوں کے حملوں کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت اب تک چھ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ چینی انقلاب کے رہنماء چیئرمین ماؤزے تنگ سے متاثر ہونے کا دعویٰ کرنے والے ماؤ باغی دیہی علاقوں میں بسنے والے غریب عوام کے لیے زمین اور روزگار کے مطالبات کے سلسلے میں بھارت کی کئی ریاستوں میں مسلح جدوجہد کا راستہ اپنائے ہوئے ہیں۔ ماؤ باغیوں کی کارروائیوں سے آندھرا پردیش، جھاڑ کھنڈ، بہار، کرناٹکا، اڑیسہ اور چھتیس گڑھ کی ریاستیں زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔ |
اسی بارے میں بہار: نکسلی تشدد میں اضافے کا خدشہ02 April, 2007 | انڈیا ماؤ نوازوں کی اپیل، چار ریاستیں بند20 March, 2007 | انڈیا چھتیس گڑھ: 50 پولیس اہلکار ہلاک15 March, 2007 | انڈیا جھار کھنڈ: لوک سبھا کے رکن ہلاک04 March, 2007 | انڈیا آسام میں چھ پولیس اہلکار ہلاک07 January, 2007 | انڈیا جھارکھنڈ: تیرہ پولیس اہلکار ہلاک02 December, 2006 | انڈیا ماؤ نواز باغیوں کا اسلحہ پکڑا گیا08 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||