جھارکھنڈ: تیرہ پولیس اہلکار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست جھارکھنڈ میں ماؤنواز باغیوں کے ایک حملے میں پولیس کے کم از کم تیرہ اہلکار ہلاک اور تین بری طرح زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ ریاست کے بوکاروں ضلع میں پیش آیا ہے۔ ضلع پولیس کے اعلی اہلکار ایم ایس بھاٹیا نے بی بی سی کوبتایا ہے کہ اس دھماکے کے پیچھے ماؤنواز باغیوں کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ بوکارو پاور تھرمل پلانٹ کے نزدیک نیا بستی نامی مقام پر پیش آيا ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سنیچر کی دوپہر تقریبا تین بجے پولیس کی سپیشل ٹاس فورس یعنی ایس ٹی ایف کے ایک وفد کی گاڑی علاقہ میں گشت کر رہی تھی۔ ریاستی پولیس کے ایک اعلی اہلکار (ڈی آئی جی ) انل پالٹا نے بتایا کہ جب یہ گاڑی بارودی سرنگ کے اوپر سے گزی تو ایک زبردست دھماکہ ہوا جس میں گاڑی ميں سوار سولہ جوانوں ميں سے تیرہ کی موت واقع ہوگئی ۔انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے تمام اہلکاروں کا تعلق ایس ٹی ایف سے تھا۔ زخمیوں کو ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے لیکن ان کی حالت کافی نازک ہے۔ اس سے قبل گزشتہ مہینے بھی ماؤ نواز باغیوں نے سی آر پی ایف (سنٹرل ریزرو پولیس ) کے قافلے پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں اس میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی تھی۔ ریاست جھارکھنڈ میں ماؤنواز باغی ایک عرصے سے سرگرم ہیں اور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ہندوستان میں آندھرا پردیش، اڑیسہ، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، چیھتیس گڑھ اور بہار میں ماؤنواز تحریک کافی شدت اختیار کر رہی ہے۔ ہندوستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں دس ہزار مسلح ماؤ نواز باغی سرگرم ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ | اسی بارے میں بہار، جھارکھنڈ میں ضمنی انتخابات05 November, 2006 | انڈیا جھارکھنڈ کا بحران06 September, 2006 | انڈیا جھارکھنڈ حکومت گرانے کی کوششیں04 September, 2006 | انڈیا جھارکھنڈ: پولیس کے بارہ اہلکار ہلاک01 June, 2006 | انڈیا جھارکھنڈ انتخابی معرکہ زوروں پر21 February, 2005 | انڈیا الیکشن: بہار، جھارکھنڈ اور ہریانہ17 December, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||