BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 September, 2006, 07:58 GMT 12:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جھارکھنڈ کا بحران

ارجن منڈا
وزیر اعلٰی ارجن منڈا کہہ رہے ہیں کہ وہ ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کر دیں گے
چار وزراء کے استعفے کے بعد جھارکھنڈ کی ارجن منڈا حکومت بظاہر اقلیت میں آگئی ہے لیکن ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کی راہ بھی آسان نظر نہیں آتی۔

ارجن منڈا حکومت کی معزولی کی صورت میں ریاست میں صدر راج نافذ ہوگا یا نئی حکومت بنے گی، اس کا انحصار گورنر سبط رضی پر ہے۔

وزیر اعلٰی ارجن منڈا کہہ رہے ہیں کہ وہ ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کر دیں گے لیکن اعداد و شمار ان کے دعوے پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔

دوسری جانب گورنر سبط رضی نے روایتی انداز میں کہا ہے کہ وہ آئین کے مطابق فیصلہ کریں گے۔گورنر کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ارجن منڈا کو اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کا موقع دیا جائے یا ان سے اکثریت کھونے کی بات کہ کر استعفٰی طلب کیا جائے۔

ارجن منڈا کو اگر ریاستی اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کا موقع ملتا ہے تو سپیکر اندر سنگھ نامدھاری کی مدد سے حکومت بچانے کا آخری موقع ملے گا۔
استعفٰی دینے اور ارجن منڈا حکومت سے حمایت واپس لینے کا اعلان کرنے والے چاروں وزیر مدھو کوڑا، اینوس ایکا، ہری نارائن رائے اور کملیش سنگھ ریاستی اسمبلی کے آزاد ممبر ہیں۔

چاروں وزراء کے ذریعہ اپنی حمایت یو پی اے کو دینے کے اعلان کے بعد اکیاسی رکنی اسمبلی میں حکران این ڈی اے کے پاس کل اڑتیس ارکان بچتے ہیں۔اس تعداد میں ایک نامزد رکن اسمبلی کو ملالیا جائے تو کل بیاسی ممبران میں انتالیس ارکان حکمراں اتحاد کے پاس ہیں۔

 استعفٰی دینے اور ارجن منڈا حکومت سے حمایت واپس لینے کا اعلان کرنے والے چاروں وزیر مدھو کوڑا، اینوس ایکا، ہری نارائن رائے اور کملیش سنگھ ریاستی اسمبلی کے آزاد ممبر ہیں۔

دوسری جانب یونائٹیڈ پروگریسو الائنس کے کل تینتالیس ارکان بتائے جا رہے ہیں۔ اس میں مذکورہ چار آزاد ارکان اسمبلی کے علاوہ شیبو سورین کے جھارکھنڈ مکتی مورچہ کہ سترہ، کانگریس کے نو اور لالو پرساد کے آر جے ڈی کے سات ارکان ہیں۔ سیاسی مبصرین چھ اور ارکان کو یو پی اے کے ساتھ مان رہے ہیں۔

سیاست میں کچھ بھی ناممکن نہیں کے مفروضے پر بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اکثریت ثابت کرنے کا موقع ملنے کی صورت میں بی جے پی اور جے ڈی یو کے مشاق سیاست داں لالو کے راشٹریہ جنتا دل کو توڑنے کی کوشش کر سکتے ہیں لیکن اس میں ان کی کامیابی بہت ہی مشکوک ہے۔ آر جے ڈی کو توڑنے کے لیئے ضروری سات میں سے پانچ ارکان کا پارٹی چھوڑنا مشکل نظر آتا ہے۔

ارجن منڈا
ارجن منڈا حکومت بظاہر اقلیت میں آگئی ہے

حکومت بچانے میں ناکامی نظر آتے دیکھ کراین ڈی اے کا اتحاد سپیکر اندر سنگھ نامدھاری کی مدد سے مستعفی ہونے والے وزیر اینوس ایکا کی رکنیت رد کرانے کی کوشش کر سکتا ہے کیوں کہ ایکا کی رکنیت رد کرنے کا معاملہ سپیکر کے زیر غور ہے۔

سیاسی اعداد و شمار کے اس کھیل میں یہ بھی ممکن ہے کہ کسی پارٹی کو اکثریت حاصل نہ ہو اور بالآخر صدر راج کے نفاذ کا اعلان ہو جائے۔

دوسری جانب این ڈی اے کی تمام کوششوں کے باجود اگر یوپی اے کو گورنر کی جانب سے حکومت کی تشکیل کی دعوت ملتی ہے تو وزیر اعلٰی کے عہدے پر چپقلش ہو سکتی ہے۔

یوپی اے کی حکومت بننے کی صورت میں مستعفی وزیر اور آزاد رکن اسمبلی مدھو کوڑا کا نام وزیر اعلٰی کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ خود مدھو کوڑا کا کہنا ہے کہ وزیر اعلٰی کا تعین یو پی اے کو کرنا ہے لیکن جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے بعض رہنماوؤں کا کہنا ہے سب سے بڑی پارٹی ہونے کی وجہ سے وزیر اعلٰی کے عہدہ اسے ملنا چاہیئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد