جھار کھنڈ احتجاج کا دوسرا دن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جھارکھنڈ میں بی جے پی اتحاد کو حکومت بنانے کی پیشکش نہ کیے جانے کے خلاف احتجاج کے باعث مسلسل دوسرے دن بھی بھارتی ایوانِ زیریں کی کارروائی جاری نہیں رہ سکی۔ جے ایم ایم کے سربراہ شیبو سورین بدھ کو ریاست جھارکھنڈ کے نئے وزیر اعليٰ کی حیثیت سے حلف اٹھاچکے ہیں اور صدر ابو کلام نے گورنر کو اس فیصلے کی وضاحت کرنے کے لیے طلب کیا کے انہوں نے جے ایم ایم کو کس بنیاد پر حکومت بنانے کے لیے کہا۔ بی جے پی اور اس کی حامی پارٹیوں پر مشتمل اتحاد این ڈی اے کا کہنا ہے کہ کانگریس کے قیادتی اتحاد کو جس میں جے ایم ایم بھی شامل ہے اکیاسی کے ایوان میں چھبیس نششتیں حاصل ہوئی تھیں جب کے بی جے پی کے اتحاد کو چھتیس۔ اس طرح این ڈی اے ایوان میں اکثریت رکھنے والا اتحاد تھا اور اس کا دعویٰ ہے کے اسے چار غیر جانبدار ارکان کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اسے طرح وہ اکیاسی کے ایوان میں اکثریت حاصل کرنے کا زیادہ اہل تھا۔ اب جے ایم ایم کے وزیراعلیٰ شیبو سورن کو اکیس مارچ کو اپنی اکثریت ثابت کرنی ہے۔ لیکن بی جے پی اس فیصلے کہ خلاف احتجاج کر رہی ہے۔ اور اس کا مطالبہ ہے کہ گوا اور جھارکھنڈ کے گورنروں کو واپس بلایا جائے۔ بی جے پی کے صدر لال کرشن اڈوانی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جھارکھنڈ میں بی جے پی جنتادل (یو) اتحاد کو سب سے زیادہ سیٹیں ملی تھیں اور اکثریت کے لیے اس نے آزاد امیدواروں کی فہرست بھی دی تھی۔ایسی صورت میں اصولی طور پر اسی کو حکومت سازی کے لیے بلانا چاہیے تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||