ہریانہ، بہار، جھار کھنڈ نتائج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں حال ہی میں ہوئے تین ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کے نتائج آگئے ہیں۔ ہریانہ میں کانگریس نے واضح اکثریت حاصل کر لی ہے۔ لیکن بہار اور جھارکھنڈ میں کسی بھی ایک پارٹی کو واضح اکثریت نہیں ملی ہے۔ معلق اسمبلی کے سبب بہار اور جھارکھنڈ میں سیاسی جوڑ توڑ شروع ہو گئی ہے۔ دارالحکومت دلی سے متصل ریاست ہریانہ میں کانگریس پارٹی نے زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔ نوے رکنی اسمبلی میں کانگریس کو پینسٹھ سے زائد سیٹیں ملی ہیں۔ پہلی بار اسے دو تہا ئی اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ ہریانہ میں نو برس کے بعد کانگریس دوبارہ اقتدار میں واپس ہوئی ہے۔ ہریانہ کے وزیراعلیٰ اوم پرکاش چوٹالہ کی جماعت انڈین نیشنل لوک دل اور بی جے پی کو ان انتخابات میں زبردست شکست ہوئی ہے۔ بہارکی چند نشستوں کو چھوڑ کر تقریباً سبھی نتائج آگئے ہیں۔ وہاں کسی ایک جماعت کو واضح اکثریت نہیں ملی ہے۔ حکمران لالو پرساد یادو کی جماعت راشٹریہ جنتادل کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ دو سو تینتالیس رکنی بہار اسمبلی میں بی جے پی کے قیادت والے این ڈی محاذ کو نوۓ سے زائد سیٹیں ملی ہیں۔ دوسرے نمبر پر آر جے ڈی ہے۔ اسے تقریبا اسی سیٹیں ملی ہیں۔ بہار میں مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان کی جماعت لوک جن شکتی نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسے تیس نشستیں ملی ہیں۔ نئی حکومت کی تشکیل میں رام ولاس پاسوان کا کردار بہت اہم رہیگا۔ بہار میں کانگریس پارٹی کی کارکردگی بہت ہی مایوس کن رہی ہے۔ بہار سے علیحدہ ہوئی ریاست جھارکھنڈ میں بھی کسی ایک پارٹی کو واضح اکثریت نہیں ملی ہے۔ یہاں کُل اکیاسی نشستیں ہیں۔ بی جے پی کے قیادت والے این ڈی اے محاذ نے خلافِ توقع اچھا مظاہرہ کیا ہے۔ اس نے 37 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے اور دوبارہ اقتدار میں آنے کے لیے چار مزید نشستیں چاہیے۔ کانگریس اور جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے اتحاد کو 26 سیٹیں ملی ہیں۔ وہاں لالو پرساد یادو کی جماعت اور کچھ آزاد امیدوار نئی حکومت کی تشکیل میں اہم رول ادا کریں گے۔ بہار اور جھارکھنڈ کے انتخابات سے جو تازہ صورت حال ابھر کر آئی ہے اسے لگتا ہے کہ وہاں اقتدار کے لیے اصل لڑائی اب شروع ہوگی۔ نئی صورت حال میں مرکز میں حکمراں کانگریس کا رول بہت اہم ہوگا۔ آئندہ کچھ روز تک نئی حکومت کے بارے میں کئی طرح کی قیاس آرائیوں کا بازار گرم رہےگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||