بہار، جھارکھنڈ میں ضمنی انتخابات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار اور جھارکھنڈ میں ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کی تین اہم نششتوں پر آئندہ چھ نومبر کو ضمنی انتخابات کے لۓ ووٹ ڈالے جائیں گے۔ ان تین سیٹوں میں ریاست بہار کے دو، بھاگلپور اور نالندہ جبکہ ریاست جھارکھنڈ کی کوڈرمہ نشست کے لئے ووٹ ڈالےجائيں گے۔ بھاگلپور کی سیٹ بہار کے نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی جبکہ نالندہ کی نششت وزیراعلیٰ نتیش کمار کے لوک سبھا کی رکنیت سے مستعفی ہونے کی وجہ سے خالی ہوئ ہے۔ کوڈرمہ کی سیٹ جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ اور بی جے پی سے مستعفی سے ہوئے لیڈر بابو لعل مرانڈی کے لوک سبھا کی رکنیت سے استعفی دینے کی وجہ سے خالی ہوئی ہے۔ نالندہ اور بھاگلپور کے پارلیمانی حلقے کے بارے میں چند باتیں بڑی واضح ہیں۔ نالندہ کا علاقہ نتیش کمار کی اپنی ذات 'کرمی' کے علاوہ 'کوئری' برادری کی اکثریت والا ہے اور یہ انتخاب نتیش کی ذاتی مقبولیت پتہ لگانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ دوسری جانب بھاگلپور میں سولہ سال پہلے مسلم مخالف فسادات ہوئے تھے اور گزشتہ کچھ مہینوں سے یہ انہیں فسادات پر سیاست کا مرکز رہا ہے۔ واضح رہے کہ یہاں سن 1989 میں بد ترین فرقہ وارانہ فسادات میں ایک ہزار سے زائد مسلمان مارے گۓ تھے۔
دوسری جانب ریاست میں حکمراں اتحاد این ڈی اے کی جانب سے بی جے پی کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر شاہنواز حسین امیدوار ہیں۔ یوپی اے میں تقسیم کے بارے میں لالو کا کہنا ہے کہ سی پی ایم کے امیدوار سبودھ رائے بھاگلپور سے دو بار انتخاب ہار چکے ہیں اس لئے ان کی پارٹی نے اپنا امیدوار دیا ہے۔ دوسری جانب سی پی ایم کے رہنما سیتا رام یچوری کے علاوہ کانگریس اور رام ولاس پاسوان کی پارٹی لوک جن شکتی پارٹی کا الزام ہے کہ لالو نے اتحاد کے تقاضوں کا خیال نہیں رکھا۔ انتخابی مہم کے دوران یہ بات ضرور نوٹس کی گئی کہ یو پی اے کے دونوں دھڑوں نے ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی سے پرہیز کیا۔ بھاگلپور اور نالندہ میں این ڈی اے کی جانب سے نتیش کمار اپنے 'سوشاسن' یعنی بہتر حکمرانی کے نام پر ووٹ مانگ رہے ہیں۔ لیکن بھاگلپور میں ایسی باتوں کا چرچہ زیادہ ہے جو بالواسطہ طور پر مسلمانوں سے منسلک ہیں۔ان باتوں میں ایک اہم بہث یہ ہے کہ بھاگلپور کے فساد کے سلسلے میں کس نے کیا کیا۔
حکومت کا موقف ہے کہ ان فسادات کے متعدد ملزمان ثبوت رہنے کے باوجود سزا پانے سے بچ گۓ۔ دوسری جانب لالو پرساد کا کہنا ہے کمیشن کی تشکیل اصل مجرموں کو بچانے کے لۓ دی گئی ہے۔ گزشتہ الکشن میں نتیش کمار نے کرمیئ کوئری اور اونچی ذات کے ایک طرف ہوجانے سے بآسانی جیت حاصل کی تھی۔ اس بار اونچی ذات کے ووٹروں کے نتیش سے الگ ہونے کا امکان بتایا جارہا ہے کیوں کہ انکی پارٹی سے علیحدگی اختیار کرنے والے سابق ممبر پارلیمنٹ ارون کمار بطور آزاد امیدوار یہاں سے قسمت آزما رہے ہیں۔ ارون کمار کا تعلق اونچی مانی جانی والی 'بھومیہار' ذات سے ہے اور انہیں لالو پرساد کی حمایت حاصل ہے۔ ادھر جھارکھنڈ میں حکومت گنوانےکے بعد بی جے پی کوڈرمہ لوک سبھا سیٹ کو اپنے ہاتھ سے نہ نکلنے دینے کی جدو جہد میں لگی ہے۔ یہاں بابو لعل مرانڈی اپنے جھارکھنڈ وکاس منچ کے ساتھ میدان میں ہیں جو گذشتہ بار بی جے پی کے ٹکٹ پر یہاں سے فتح حاصل کی تھی۔ دوسری طرف حال ہی میں اقتدار میں آئے یو پی اے اتحاد کو جھارکھنڈ میں بہار جیسی کسی دقت کا سامنا نہیں ہے۔ یو پی اے کی جانب سے کانگریس کے منوج یادو امیدوار ہیں اور انہیں لالو اور رام ولاس کی پارٹی کے ساتھ ساتھ یہاں کی اہم علاقائ پارٹی جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔ | اسی بارے میں نتیش کمار: بہار کے سیاسی اکھاڑے میں24 November, 2005 | انڈیا بہار: لالو کا زوال کس کا کمال؟ 23 November, 2005 | انڈیا مغربی بنگال، انتخابی مہم زور پر20 April, 2006 | انڈیا ریاست بہار کے پنچایتی انتخابات22 April, 2006 | انڈیا بہار نجکاری کے راستے پر01 June, 2006 | انڈیا انڈیا: ارکانِ پارلیمان میں ہاتھا پائی 24 August, 2006 | انڈیا ’سرمایہ کاری کے لیئے ہرممکن اقدام‘27 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||