BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 April, 2007, 09:47 GMT 14:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہار: نکسلی تشدد میں اضافے کا خدشہ

ماؤ باغی (فائل فوٹو)
نکسلی بینک لوٹ کر اسلحہ خریدتے ہیں: ڈی آئی جی پانڈے
نیپال کی حکومت میں ماؤ نواز تحریک کے ارکان کی شمولیت سے باالخصوص شمالی بہار کے حکام ریاست میں نکسلی تشدد میں اضافے کا خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔

بہار کی شمالی سرحد پر واقع کئی اضلاع کی سرحدیں نیپال سے ملتی ہیں اور ان علاقوں میں عام طور پر سکیورٹی کے خاص انتظامات نہیں کیے جاتے۔

ترہُت رینج کے ڈی آئی جی گپتیشور پانڈے کے مطابق نیپال اور ہندوستان کے ماؤ نواز باغی ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ حکومت میں شامل ہونے کے بعد شمالی بہار میں نکسلی تحریک تیز ہوگی۔ ان کے مطابق سرحد کے کھلے ہونے کی وجہ سے نکسلیوں کے لیے اپنی کارروائی کے بعد چھپ جانا آسان ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سنیچر کو سیکڑوں نکسلیوں نے سیتامڑھی ضلع کے ریگا بلاک پر حملہ کر دیا تھا۔ اس حملے کے بعد کچھ دیر کے لیے علاقہ ماؤ نواز باغیوں کے قبضے میں آ گیا تھا۔

باغی تحریک کا مرکز
نیپال سے متصل اضلاع مشرقی چمپارن، مدھوبنی اور سیتامڑھی ماؤ نواز باغیوں کی تحریک کا مرکز رہے ہیں

ریگا میں مقامی پولیس اور حملہ آور نکسلیوں میں زبردست فائرنگ میں بہار کی سابق فوجیوں پر مبنی سپیشل آگزیلیری پولیس یا ’سیپ’ کا ایک جوان ہلاک ہو گیا تھا۔ حملہ آور نکسلیوں نے ایک پُل کو اڑانے کے بعد مقامی بینک کو لوٹنے کی کوشش کی تھی۔

ڈی آئی جی گپتیشور پانڈے کا کہنا کہ نکسلی بینک لوٹ کر اسلحہ خریدتے ہیں اور ریگا کے بینک لُٹنے سے بچنے کی وجہ پولیس کی بروقت کارروائی نہیں بلکہ حملہ آوروں کی اپنی ناکامی تھی۔

ریاست کے داخلہ سیکرٹری افضل امان اللہ نے کہا تھاکہ ریگا جیسے علاقے نکسلیوں کے نشانے پر رہتے ہیں اور ایسے معاملوں میں خفیہ معلومات معیاری نہیں ہوتیں۔ان کے مطابق کوئی مخصوص خفیہ معلومات نہ ہونے کے سبب نکسلی حملوں کو روکنا مشکل ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ نیپال سے متصل اضلاع مشرقی چمپارن، مدھوبنی اور سیتامڑھی ماؤ نواز باغیوں کی تحریک کا مرکز رہے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ نیپال اور بہار کی سرحد کے آس پاس کے علاقوں کے باشندوں کی رشتہ داریاں ہیں۔ ایسے میں پولیس کے لیے اس بات کا تعین مشکل ہوتا ہے کہ کون عام باشندہ اور کون ممکنہ نکسلی حملہ آور ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد