نیپال۔بہار سرحد پر مدھیشی تحریک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال کے جنوبی علاقوں میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری پر تشدد ’مدھیشی تحریک‘ کا اب بہار کے سرحدی اضلاع پر بھی اثر پڑنے لگا ہے۔ اس تحریک کے شدت اختیار کر لینے کی وجہ سے بہار کی حکومت نے اپنے باشندوں کو نیپال نہ جانے کی صلاح دی ہے اور سرحد پر تعینات سیما سورکشا بل یا ایس ایس بی کی گشت بڑھا دی گئی ہے۔ ریاست کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولس ابھیانند کے مطابق نیپال میں بگڑتے حالات کے مدنظر ہند-نیپال سرحد سے متصل تمام اضلاع کے ایس پی کو ہدایت دی گئی ہے کہ بہار سے نیپال جانے والے باشندوں کو سرحد پار کرنے سے روکنے کا انتظام کریں۔ دوسری جانب نیپال میں جاری کرفیو اور پولس کارروائی کی وجہ سے جمعرات کو بہت سے نیپالی مدھیشی باشندوں کے ارریہ ضلع کے جوگبنی شہر میں چلےجا نے کی خبر ہے۔ نیپال سے متصل شیوہر پارلیمانی حلقے کی نمائندگی کر چکے سابق جونیئر وزیر خارجہ ہری کشور سنگھ کا کہنا ہے کہ نیپالی مدھیشیوں کا بہار کے لوگوں سے گہرا رشتہ ہے اس لیے ان پر تشدد بڑھنے کی وجہ سے سرحد کے اس پار آنا فطری عمل ہے۔ واضح رہے کہ نیپال کے میدانی اضلاع میں ہندی بولنے والے نیپالی باشندوں کو مدھیشی کہا جاتا ہے جن کی رشتہ داریاں ہندوستان کے کئی اضلاع کے خاندانوں سے ہے۔ ابھی بہار کے سیتامڑھی، مدھوبنی، چمپارن اور ارریہ سے متصل علاقے کے باشندے اس تحریک سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
مسٹر سنگھ کے مطابق اپنے حقوق کے لیے مدھیشی ویسے تو سن 1950 سے لڑ رہے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں نیپال کے وزیراعظم کے بیان اور ماؤنواز باغیوں کے بڑھتے عمل دخل کی وجہ سے مدھیشی خود کو محرومی کا شکار مان رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تحریک نیپال کے قریب بائیس اضلاع میں چل رہی ہے۔ان کے مطابق فی الوقت مدھیشی تحریک میں قیادت کی کمی ہے جس کی وجہ سے تشدد کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ نیپال میں ماؤ نواز جماعت کے سربراہ پرچنڈا نے مدھیشی تحریک کے لیے ہندوستان کے ’ہندو انتہا پسندوں‘ کو ذمہ دار قرار دیا ہے ۔ ’اگرچہ ہندوستان کی حکومت نیپال کے امن کے عمل کی حمایت کرتی ہے، بعض ہندو انتہا پسند گروپ جو بادشاہت کا خاتمہ نہیں چاہتے وہ تشدد کو ہوا دے رہے ہیں ۔‘ انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ’وہ نہیں چاہتے کہ ماؤنواز الیکشن میں حصہ لیں۔ وہ نیپال میں ایک ریپبلک کے قیام کے خلاف ہیں اور نہیں چاہتے کہ آئندہ جون میں جمہوري انتخابات ہوں۔‘ بہار سے متصل نیپال کے اضلاع میں مقیم صحافیوں کے مطابق نیپال کے ویرگنج، پرسا، روتہٹ، جنک پور دھام وغیرہ شہروں میں اس تحریک کے دوران متعدد سرکاری دفاتر نذر آتش ہو چکے ہیں اور بعض پولیس اہلکار کی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔ اسی طرح مظاہرے کر رہے کئی مدھیشی پولیس فائرنگ میں مارے گئے ہیں۔ اس تحریک کی وجہ سے بہار کے سرحدی علاقوں کے بازار بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ہندوستان سے نیپال جانے والے بےشمار ٹرک اور بس جہاں تہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ بھارتی ریلوے اسٹیشنوں سے ملک کے مختلف شہروں کو جانے والے نیپالی مسافروں کی تعداد بھی صفر کے برابر ہو گئی ہے۔ | اسی بارے میں ماؤ نواز باغیوں کا بھارت کو ’لال سلام‘22 June, 2006 | انڈیا ماؤ رہنما ہلاک، کشیدگی عروج پر24 July, 2006 | انڈیا ماؤنواز قیدیوں کے لئے عالمی مدد 26 March, 2005 | انڈیا نیپال کی بھارتی فوجی امداد بحال24 April, 2005 | انڈیا جمہوریت بحال ہوگی: گیانندرا23 April, 2005 | انڈیا نیپال: انتخابات میں تشدد08 February, 2006 | انڈیا بہار کے لوگ ریاست چھوڑنے پر کیوں مجبور؟07 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||