BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 April, 2005, 04:20 GMT 09:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جمہوریت بحال ہوگی: گیانندرا
 بھارتی وزیرِاعظم اور نیپال کے بادشاہ
بھارتی وزیرِاعظم اور نیپال کے بادشاہ کی ملاقات کا منظر
بھارتی حکام کے مطابق شاہ گیانندرا نے بھارتی وزیرِاعظم کو یقین دلایا ہے کہ وہ نیپال میں جمہوری عمل کی بحالی کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں۔

تاہم حکام کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیرِاعظم اور نیپالی شاہ کی اس ملاقات میں شاہ گیانندرا نے جمہوریت کی بحالی کا کوئی ٹائم فریم نہیں دیا ہے۔

بھارتی وزیرِاعظم منموہن سنگھ نے نیپال کے بادشاہ شاہ گیانندرا سے افریقی ایشیائی اجلاس کے موقع پر ملاقات میں سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کی بحالی اور نیپال میں ایک کثیر الجماعتی جمہوریت کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔

اس سے قبل بھارت کے وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے بھی انڈونیشیا میں نیپال کے بادشاہ سے ملاقات کی تھی اور یہ نیپال میں بادشاہ کی طرف سے منتخب حکومت ختم کر کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ بھارت کا ان کا یہ سے پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ تھا۔

فروری میں نیپال کے بادشاہ نے منتخب حکومت کو ختم کر کے ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔

جمعہ کے روز نیپال میں ایک سابق نائب وزیر اعظم اور ساٹھ دیگر افراد کو رہا کیا گیا تھا۔ نٹور سنگھ نے ان قیدیوں کی رہائی اور ملک میں بلدیاتی انتخابات کے اعلان کو سراہا۔

تاہم بھارت اور عالمی برداری نے نیپال میں بادشاہ کے حکومت کے خاتمے کے اقدام پر کئی بار تنقید کی ہے۔

شاہ گیانندرا کا کہنا ہے کہ نیپال میں ماؤ نواز باغیوں سے نمٹنے اور بد عنوانی کے خاتمے کے لیے ایسا کرنا ضروری تھا جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ نیپال میں تین ہزار سیاسی قیدی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد