نیپال: انتخابات میں تشدد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں شاہ گئندر کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد آج نیپال میں بلدیاتی انتخابات ہوئے جِن میں نو افراد ہلاک ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق دن کے آغاز میں ووٹنگ کی شرح کم رہی۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں پانچ پولیس اور فوج کے اہلکار اور چار ماؤ نواز باغی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ باغیوں کے ہاتھوں پندرہ سرکاری اہلکاروں کے اغوا کی اطلاعات بھی ملی۔ ان لوگوں کو مبینہ طور پر ووٹنگ شروع ہونے سے پہلے اغوا کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق سینکڑوں باغیوں نے مختلف سرکاری دفاتر پر بموں سے حملے کیے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کے بائیکاٹ، امن و امان کی خراب صورتحال اور باغیوں کی دھمکیوں سے ووٹنگ کی شرح بری طرح متاثر ہوئی۔ شاہ گیاندرا کا کہنا ہے کہ ان انتخابات کے بعد اگلے مرحلے میں اپریل دو ہزار سات میں قومی انتخابات منعقد کیئے جائیں گے۔ نیپال میں حزبِ اختلاف کی تمام بڑی جماعتوں نے ان مقامی انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے۔ یہ جماعتیں اور ماؤ نواز باغی کہتے ہیں کہ یہ انتخابات ایک دھوکہ ہیں۔ چار ہزار نشستوں میں سے ایک چوتھائی نشستوں پر کوئی امیدوار کھڑا نہیں ہوا کیونکہ باغیوں نے اس حوالے سے دھمکیاں دے رکھی تھیں۔ فوج کو حکم دیا گیا ہے کہ ووٹنگ میں گڑبڑ کرنے والے کو دیکھتے ہی گولی مار دی جائے۔ نیپال کے وزیرِ داخلہ کمال کھڑپہ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ فوج اور پولیس دونوں کو حکم دیا گیا ہے کہ اگر کوئی ووٹروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے یا انتخابی عمل میں خرابی کرے تو اس کے خلاف بھر پور طاقت استعمال کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان انتخابات کے ذریعے نیپال کے عوام پائیدار جمہوریت اور امن کا ایک پیغام دے سکتے ہیں۔
اکثر مبصرین کہتے ہیں کہ سلامتی کی موجودہ صورتِ حال میں نیپال میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ناممکن ہے۔ خیال کیا جا رہا ہےکہ ملک کے اندر یا باہر کا کوئی بھی گروپ بدھ کو ہونے والے ان انتخابات کی نگرانی نہیں کرے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے کہہ دیا ہے کہ نگرانوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ باغیوں نے انتخابی عمل روکنے کے لیئے ایک ہفتے کی ہڑتال کی کال دی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ہڑتال توڑنے والوں یا بدھ کے انتخابات میں حصہ لینے والوں کو اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ جنوری کے اوائل میں باغیوں نے چار ماہ سے جاری جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ باغیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے دو امیدواروں کو قتل اور دیگر پر حملے کیے ہیں۔ ان انتخابات کے لیئے کاغذات جمع کرانے والوں میں سے چھ سو امیدوار دستبردار ہو چکے ہیں۔ امیدواروں کے کم ہونے کی وجہ سے انتخابی عمل صرف 36 قصبوں اور شہروں میں ہوگا کیونکہ بائیس حلقوں میں نہ تو کوئی امیدوار کھڑا ہوا اور نہ وہاں کسی کو بلا مقابلہ کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ نیپال میں انیس سو پچانوے سے شروع ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں گیارہ ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔ قومی اور مقامی انتخابات تین سال پہلے ہونے تھے۔ آخری مرتبہ یہ انتخابات انیس سو ننانوے میں ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں نیپال: سینکڑوں امیدوار دستبردار29 January, 2006 | آس پاس کٹھمنڈو میں کرفیو، سینکڑوں گرفتار20 January, 2006 | آس پاس نیپال: ہڑتال سے زندگی مفلوج05 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||