BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 February, 2006, 12:52 GMT 17:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیپال: ہڑتال سے زندگی مفلوج
نیپال میں ایک پولیس اہلکار
کھٹمنڈو میں سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں
نیپال میں ماؤ نواز باغیوں کی جانب سے ہڑتال کی کال سے پورے ملک میں کاروبار زندگی مفلوج ہو گیا ہے۔

ایک ہفتہ سے جاری ہڑتال جس کا مقصد آئندہ بدھ کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کو روکنا ہے، اتوار کے روز شروع ہوئی اور اس سے دارالحکومت کھٹمنڈو سمیت بہت سے شہر متاثر ہوئے ہیں۔

نیپال میں سکول، کارخانے اور دفاتر بند رہے اور سڑکوں پر بہت کم ٹریفک دیکھنے میں آئی۔ باغیوں کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات شاہ گیئندر کے اقتدار کو قانونی جواز دینے کے لیے کروائے جا رہے ہیں۔

باغیوں نے انتخابات میں حصہ لینے والوں کو قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔ بڑی سیاسی جماعتیں بھی ان انتخابات کا بائیکاٹ کر رہی ہیں جس کا مقصد دو ہزار پانچ میں شاہ کی طرف سے اقتدار پر قبضے کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔

بڑے شہروں میں سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں اور وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ہڑتال کو کامیاب بنانے کی کوششوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور اس سلسلے میں طاقت کا استعمال بھی کیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق کھٹمنڈو میں زیادہ تر پبلک ٹرانسپورٹ بند رہی اور چند کاروباری مراکز کھلے رہے۔ ایک کافی شاپ کے مالک جیون گری نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے ایک دن کے لیے دوکان بند کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن سات دنوں کے لیے یہ بہت مشکل ہے۔ آخر میں اپنا گزارا کیسے کروں؟‘

نامہ نگاروں کے مطابق ہڑتال کی کامیابی میں خوف کا عنصر شامل ہے۔ حکام نے سکیورٹی کے لیے تلاش اور شناخت کا عمل شروع کر دیا ہے اور لوگوں سے گھر سے نکلتے وقت اپنے شناختی کارڈ ساتھ رکھنے کو کہا ہے۔

نیپال کے دیہی علاقوں میں ماؤ باغی
ماؤ باغیوں نے یک طرفہ جنگ بندی ختم کر دی ہے

اس سے پہلے موٹر سائیکل پر دو افراد کے بیٹھنے پر پابندی لگا دی گئی تھی کیونکہ حکام کے مطابق باغی حملوں کے لیے موٹر سائیکلوں کا استعمال کرتے رہے ہیں۔

باغیوں کی جانب سے حالیہ حملوں میں دو امیدوار ہلاک جبکہ ایک شدید زخمی ہو گیا ہے۔ پچھلے مہینے باغیوں نے یک طرفہ جنگ بندی ختم کر دی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات اگلے سال پارلیمانی انتخابات کی راہ ہموار کریں گے۔ نیپال میں پارلیمانی انتخابات تین سال پہلے ہونا تھے۔

شاہ گیئندر نے فروری دو ہزار پانچ میں اقتدار پر مکمل قبضہ کر لیا تھا اور اس واقعہ کی پہلی سالگرہ کے موقع پر انہوں نے کہا ہے کہ ان کے اقتدار سے ماؤ نواز باغیوں کافی حد تک کمزور ہو گئے ہیں۔

تاہم حزب اختلاف نے ان کی اس تقریر کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے حالات مزید ابتر ہو گئے ہیں۔ شاہ کا کہنا ہے کہ سول حکومت باغیوں کو کچلنے میں ناکام رہی تھی اس لیے ان کا یہ قدم درست تھا۔ تاہم انہیں جمہوریت کی بحالی کے لیے اندرونی اور بیرونی دباؤ کا سامنا رہا ہے۔

 بس حادثےسڑک حادثات
نیپال میں20 افراد ہلاک اور 33 زخمی ہوگئے
گیانیندراقتدار کی رساکشی
نیپال کی شاہی تاریخ پر ایک نظر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد