نیپال: جھڑپوں میں بیس ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں حکام کا کہنا ہے کہ ماؤ نواز باغیوں اور سیکیورٹی دستوں کے درمیان جھڑپوں میں چھ اہلکار اور چودہ باغی ہلاک ہوئے۔ نیپالی فوج کا کہنا ہے کہ سنیچر کی رات کو ہونے والی ایک جھڑپ کے بعد چودہ باغیوں اور چھ فوجی اہلکاروں کی لاشیں ملی ہیں۔ دریں اثناء نیپال میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے مزید تین روز کی ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ سنیچر کو ہونے والی ہڑتال کے دوران کٹھمنڈو میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ نیپال کی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما مادھو کمار نے کہا ہے کہ جمہوریت کے لیے جدوجہد میں کمی نہیں کی جائے گی۔ حزب اختلاف کی رابطہ کمیٹی نے جمعرات کو ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ سات جماعتوں کے اتحاد نے ملک کے بادشاہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گزشتہ سال حاصل ہونے والے مکمل اختیارات سے دستبردار ہو جائیں۔ گزشتہ سال ملک کے بادشاہ نے جمہوری حکومت کو ختم کر دیا تھا۔ حزب اختلاف نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آئندہ ماہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں حصہ نہ لیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات غیر جمہوری ہیں اور ان کا مقصد بادشاہ کی براہ راست حکمرانی قائم کرنا ہے۔ نیپال میں اس ماہ کے آغاز پر ماؤ نواز باغیوں کی طرف سے چار ماہ سے جاری یکطرفہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد تشدد کی لہر تیز ہو گئی تھی۔ ماؤ نواز باغیوں کی طرف سے دس سال قبل کمیونسٹ ریاست کے قیام کے لیے شروع ہونے والی جدوجہد کے بعد ملک میں بارہ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ | اسی بارے میں ماؤ باغی: جنگ بندی کااعلان03 September, 2005 | آس پاس باغیوں کاشاہ سے بات کرنے سےانکار 04 September, 2005 | آس پاس نیپال: فائرنگ سے 11 ہلاک15 December, 2005 | آس پاس قیدیوں کی فہرست نے گورکھوں کو بچالیا31 December, 2005 | آس پاس کٹھمنڈو: سینکڑوں مظاہرین گرفتار21 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||