BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 31 December, 2005, 13:31 GMT 18:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قیدیوں کی فہرست نے گورکھوں کو بچالیا

کیپٹن پیٹر اونیل کی فہرست سے ہزاروں گورکھا فوجیوں کو فائدہ ہوا۔
نومبر 2003 کو برطانوی حکومت نے اپنے ان فوجیوں کو فی کس دس ہزار پاؤنڈ دینے کا اعلان کیا جنہیں دوسری عالمی جنگ میں جاپان میں جنگی قیدی بنا لیا گیا تھا۔

ان میں نیپال سے تعلق رکھنے والے گورکھا رجمینٹ کے فوجی بھی شامل تھے جنہوں نے برطانوی فوج کی طرف سے جنگ میں حصہ لیا تھا۔

لیکن جب ایک برطانوی ٹیم کو معاوضہ وصول کرنے کے اہل فوجیوں کا تعین کرنے کے لیے نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو پہنچی تو اسے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ زیادہ تر گورکھا فوجیوں کے پاس وہ کاغذات نہیں تھے جن سے یہ ثابت ہو سکے کہ انہیں جاپان میں جنگی قیدی بنایا گیا تھا۔

کہانی یہیں پر ختم ہو جاتا اگر برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف میں ان مشکلات کی نشاندہی کے لیے ایک مضمون نہ چھپتا۔

گورکھا فوجیوں کی مشکلات سے متعلق مضمون جاپان میں فوجی خدمات انجام دینے والے برطانوی فوجی کیپٹن پیٹر اونیل کی بیوہ ویرونیکا اونیل کی نظر سے گزرا۔

گورکھا فوجیوں کی دکھ بھری کہانی سن کے ویرونیکا اونیل کو خیال آیا کہ وہ اس سلسلے میں ان کی مدد کر سکتی ہیں کیونکہ ان کے پاس جنگی قیدی بنائے گئے گورکھا فوجیوں کی وہ فہرست موجود ہے جو ان خاوند کی چھوڑی تھی۔

اس فہرست میں ان ایک ہزار گورکھا فوجیوں کے نام موجود ہیں جنہیں جاپانیوں نے جنگی قیدی بنایا تھا۔

’میں نے سوچا کہ مجھے وزارت دفاع میں کسی سے رابطہ کر کے اسے اس فہرست سے متعلق آگاہ کرنا چاہیے۔‘

کیپٹن اونیل فرسٹ گورکھا رائفلز کی سیکنڈ بٹالین کے ایجوٹینٹ تھے اور انہوں نے اپنے زیرکمان تمام جوانوں کی فہرست مرتب کرنا ضروری سمجھا۔

لیکن جاپانیوں نے قیدیوں کا ریکارڈ رکھنے پر پابندی لگا رکھی تھی جس کی وجہ سے کیپٹن اونیل کو فہرست کو خفیہ رکھنا پڑا۔ اس کے باوجود جنگ کے خاتمے پر انہیں فہرست جاپانیوں کے حوالے کرنا پڑی۔ تاہم اس فہرست کی ایک نقل محفوظ رہ گئی جسے مسٹر اونیل نے ایک جار میں رکھ کر زمین میں دبا دیا تھا۔

اس فہرست کی مدد سے اب تک 790 گورکھا فوجیوں اور ان کی بیواؤں کی نشاندہی ہو چکی ہے۔

اسی بارے میں
دو سو سال سے فوجی اب شہری
30 September, 2004 | آس پاس
گورکھوں کی اپیل
31.10.2002 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد