BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 September, 2004, 01:04 GMT 06:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دو سو سال سے فوجی اب شہری
گورکھا سپاہی
گورکھا سپاہی تقریباً 200 سال سے برطانوی افواج کا حصہ ہیں۔
برطانوی فوج میں دو سو سال سے خدمات انجام دینے والے گورکھا سپاہیوں کو برطانیہ میں رہنے اور یہاں کی شہریت حاصل کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے کہا کہ گورکھا فوجیوں نے جو خدمات انجام دی ہیں ان کےپیش نظر ضروری ہے کہ ان کی قربانیوں کو تسلیم کیا جائے۔

گورکھا سپاہی تقریباً 200 سال سے برطانوی افواج کا حصہ ہیں اور اپنی بہادری کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔

اب سے جو بھی گورکھا سپاہی چار سال سے زیادہ عرصے تک فوج میں رہے گا اس کو برطانیہ میں رہائش کے لئے درخواست دینے کا حق حاصل ہوگا۔

توقع ہے کہ مزید بارہ ماہ کے بعد زیادہ تر گورکھا سپاہیوں کو برطانیہ میں رہنے اور شہریت کا حق حاصل ہو جائے گا۔

لیکن اس نئے ضابطے کا اطلاق ان گورکھا فوجیوں پر گا جنہوں نے 1997 سے بعد مسلح افواج میں شرکت کی تھی۔
1997 کی حد مقرر کرنے سے سو گورکھا سپاہی شہریت کے حق سےمحروم رہیں گے ۔ گورکھا ویلفئیر سوسائٹی نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا تاہم اسے ادھوری خوشی قرار دیا ہے۔

کئی برسوں سے گورکھا رجیمنٹ کے سپاہی ریٹائرمنٹ کے بعد برطانوی شہریت اور ملازمت کے دوران بہتر حالات کے اپنے حقوق کے لئے جدو جہد کر رہے تھے۔

2003 میں اس رجمنٹ کے سات رکن دوسرے برطانوی سپاہیوں کے مساوی تنخواہ اور پینشن کا مقدمہ ہار گئے تھے۔اس رجمنٹ میں ابھی 3500 سپاہی ہیں ۔

اور حالیہ برسوں میں انہوں نے بوسنیا ، کوسوو، افغانستان اور سیرا لیون میں برطانوی فوج کی جانب سے کام کیا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد