دو سو سال سے فوجی اب شہری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی فوج میں دو سو سال سے خدمات انجام دینے والے گورکھا سپاہیوں کو برطانیہ میں رہنے اور یہاں کی شہریت حاصل کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے کہا کہ گورکھا فوجیوں نے جو خدمات انجام دی ہیں ان کےپیش نظر ضروری ہے کہ ان کی قربانیوں کو تسلیم کیا جائے۔ گورکھا سپاہی تقریباً 200 سال سے برطانوی افواج کا حصہ ہیں اور اپنی بہادری کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ اب سے جو بھی گورکھا سپاہی چار سال سے زیادہ عرصے تک فوج میں رہے گا اس کو برطانیہ میں رہائش کے لئے درخواست دینے کا حق حاصل ہوگا۔ توقع ہے کہ مزید بارہ ماہ کے بعد زیادہ تر گورکھا سپاہیوں کو برطانیہ میں رہنے اور شہریت کا حق حاصل ہو جائے گا۔ لیکن اس نئے ضابطے کا اطلاق ان گورکھا فوجیوں پر گا جنہوں نے 1997 سے بعد مسلح افواج میں شرکت کی تھی۔ کئی برسوں سے گورکھا رجیمنٹ کے سپاہی ریٹائرمنٹ کے بعد برطانوی شہریت اور ملازمت کے دوران بہتر حالات کے اپنے حقوق کے لئے جدو جہد کر رہے تھے۔ 2003 میں اس رجمنٹ کے سات رکن دوسرے برطانوی سپاہیوں کے مساوی تنخواہ اور پینشن کا مقدمہ ہار گئے تھے۔اس رجمنٹ میں ابھی 3500 سپاہی ہیں ۔ اور حالیہ برسوں میں انہوں نے بوسنیا ، کوسوو، افغانستان اور سیرا لیون میں برطانوی فوج کی جانب سے کام کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||