کٹھمنڈو: سینکڑوں مظاہرین گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کٹھمنڈو سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق نیپالی پولیس نے بادشاہت مخالف مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا ہے اور سینکڑوں افراد حراست میں لے لیے گئے ہیں۔ دارالحکومت کٹھمنڈو میں موجود بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے بتایا ہے کہ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ دریں اثناء ایک اطلاع کے مطابق ماؤنواز باغیوں نے نیپالی پولیس کے کم سے کم چھ اہلکاروں کو ہلاک کردیا ہے۔ یہ واقعہ بھارتی ریاست اترپردیش سے ملحقہ شہر نیپال گنج میں جمعہ کی شب پیش آیا۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں ماؤنواز باغیوں اور پولیس کے درمیان مسلح جھڑپوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ نیپال میں گزشتہ سال جمہوری حکومت کی برطرفی کے بعد اقتدار پر شاہ گیانندر کے قبضے کے بعد سے سیاسی جماعتیں جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کرتی آرہی ہیں۔ جمعہ کے روز بھی نیپال کے فوجی اور پولیس کے اہلکار کٹھمنڈو میں کرفیو کے نفاذ پر عمل درآمد کے لیے سڑکوں پر گشت کرتے رہے۔ سابق وزیراعظم گرجا پرساد کوئرالا اور کمیونسٹ رہنما مادھو پرساد نیپال سمیت کئی بڑے سیاست دانوں کو نظربند کردیا گیا ہے۔ آج سنیچر کے روز جمہوریت نواز مظاہرین نے دارالحکومت کٹھمنڈو کی سڑکوں پر آنے کی کوششیں کی لیکن پولیس کی جانب سے انہیں روکنے کی کوشش میں سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ نیپال کی سات جماعتوں پر مبنی ایک سیاسی اتحاد نے ان مظاہروں کی اپیل کی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مظاہرین میں بائیں بازو کے ماؤنواز سیاسی کارکن ہیں جو تشدد کے راستے پر ہیں۔ نیپال کے وزیر داخلہ کمال تھاپا نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’ہمیں عوام کا تحفظ کرنا ہے اور امن و سکون قائم رکھنا ہے۔‘ نیپال کی بادشاہت نے غیرمعینہ مدت کے لیےتمام ریلیوں پر پابندی عائد کررکھی ہے۔ | اسی بارے میں کٹھمنڈو میں کرفیو، سینکڑوں گرفتار20 January, 2006 | آس پاس نیپال: فائرنگ سے 11 ہلاک15 December, 2005 | آس پاس نیپال: ریڈیو سٹیشن بند، پانچ گرفتار 28 November, 2005 | آس پاس باغیوں کاشاہ سے بات کرنے سےانکار 04 September, 2005 | آس پاس ماؤ باغی: چھ مسافر ہلاک 27 August, 2005 | آس پاس سابق نیپالی وزیرِاعظم کو قید26 July, 2005 | آس پاس اسلحہ کی عالمی مارکیٹ سے خرید19 June, 2005 | آس پاس ریڈیوکمپنی بند کرنے پراحتجاج 29 May, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||