کٹھمنڈو میں کرفیو، سینکڑوں گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں بادشاہت کے خلاف جمہوریت نواز مظاہرین کو روکنے کے لیے نیپالی فوجی دارالحکومت کٹھمنڈو میں دن بھر کے کرفیو کے نفاذ کو کامیاب بنانے کی کوشش میں ہیں۔ شاہ گیانندر نے گزشتہ سال اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا۔ جمعہ کے کرفیو کے پیش نظر حکام نے ملک کے دو اہم سیاست دان سابق وزیر اعظم گرجا پرساد کوئرالا اور کمیونسٹ رہنما مادھو کمار نیپال کو حراست میں لے لیا ہے۔ جمعرات کو ان سیاست دانوں کی گرفتاری پر ہندوستان کی حکومت نے تشویش کا اظہار کیا تھا اور نیپالی حکومت کے اقدامات کو ان لوگوں کے لیے قابل افسوس قرار دیا جو نیپال میں سیاسی استحکام کے لیے آئینی فورسز کی حمایت کرنا چاہتے ہیں۔ جمعہ کے کرفیو کے نفاذ کے باوجود سات سیاسی جماعتوں پر مبنی اپوزیشن اتحاد نے مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ملک میں غیرمعینہ مدت کے لیے احتجاجی ریلیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ دو سیاسی رہنماؤں کی نظربندی حکومت کی جانب سے سیاسی مظاہرین کے خلاف سخت اقدامات کی ایک کڑی ہے۔ مظاہرین ملک میں دوبارہ جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ جمعرات کو اپوزیشن اور حقوق انسانی کے سینکڑوں کارکنوں کو دارالحکومت کٹھمنڈو میں گرفتار کرلیا گیا اور شہر میں ٹیلی فون رابطے منقطع کردیے گئے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ جمعہ کے روز مظاہرہ ہو سکے گا یا نہیں۔ حکومت نے کٹھمنڈو میں مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے سے شام چھ بجے تک کرفیو نافذ کیا ہوا ہے۔ ہزاروں فوجی اور پولیس کے اہلکار شہر اور اس کے اطراف میں تعینات کردیے گئے ہیں۔ | اسی بارے میں نیپال ایک بڑے بحران کے قریب18 March, 2005 | آس پاس نیپال: اپو زیشن سے شاہ کی اپیل 28 May, 2005 | آس پاس سابق نیپالی وزیرِاعظم کو قید26 July, 2005 | آس پاس باغیوں کاشاہ سے بات کرنے سےانکار 04 September, 2005 | آس پاس نیپال: ریڈیو سٹیشن بند، پانچ گرفتار 28 November, 2005 | آس پاس نیپال: فائرنگ سے 11 ہلاک15 December, 2005 | آس پاس نیپال: بس دھماکے میں 50 ہلاک06 June, 2005 | آس پاس نیپال کے سابق وزیر اعظم گرفتار27 April, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||