ریڈیوکمپنی بند کرنے پراحتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں حکومت کی جانب سے ریڈیو پروڈکشن کمپنی پر پابندی کے خلاف دو سو سے زائد صحافیوں نے دارالحکومت کھمنڈو میں اجتجاجی جلوس نکالا۔ صحافیوں کا مطالبہ تھا کہ حکومت ریڈیو کمپنی بند کر نے کافیصلہ واپس لے بصورتِ دیگر صحافی یہ معاملہ سپریم کورٹ لے جائیں گے۔ یکم فروری کوشاہ کےاقتدارسنبھالنے کے بعد ذرائع ابلاغ کو سخت پابندیوں کا سا منا ہے۔ شاہ کا اس بارے میں کہناہے کہ سیاست دان دس سال سے ماؤ باغیوں پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔ اس بغاوت میں بارہ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ اجتجاجی جلوس میں کچھ صحافیوں نے کالے کپڑے پہنے ہوئےتھے اور بینرز اٹھا رکھےتھے جن پرمختلف نعرے درج تھے جیسے ًغیر قانونی حکم واپس لیا جائے، ریڈیوکی خبروں پر پابندی اٹھائی جائے‘۔ نیپالی صحافیوں کی فیڈریشن کے صدر بشنو نشدیوری نے کہاہے کہ حکومت اس طرح کے اقدامات سے صحافیوں کو ڈرانا چاہتی ہے جو ملک میں آزادی اظہار کے لیے لڑ ر ہے ہیں ۔ انھوں نےاسے ذرائع ابلاغ کی آزادی کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزارتِ اطلاعات کاا س بارے میں یہ مؤقف ہےکے ریڈیو پروڈکشن کمپنی کے خلاف متعدد شکایات تھیں اور کمپنی غیرقانونی طور پر چلائی جا رہی تھی۔ نیپال میں نجی ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کو شاہی اقتدار کے فورا بعد کام کرنے سے روک دیا گیاتھا۔ کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر گوپال گوراگین نے حکومت کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا۔ گوپال نے کہا کہ کمپنی اس حکومتی قدم کے خلاف آواز اٹھانے گی۔ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلینج کیاجائے گا۔ ان کا کہنا ہے کے اس فیصلے سے کمپنی کی نیوز سروس سے وابستہ ہزاروں نیپالی سپریم کورٹ نے حکومت کو چودہ دن کے اندر ایف ایم خبروں پر پابندی کے فیصلے پر دلائل پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ مگر حکومت کی جانب نیپال کی کابینہ نے پریس کےلیےنئے قوانین منظور کیے ہیں۔ان قوانین میں یہ فیڈریشن کا کہنا ہے کے شاہ کےاقتدار سنبھالنے کے بعد ہزاروں رپورٹرز جیلوں میں بند ہیں ۔اور دو ہزار سے زائد رپورٹرز کواپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||