نیپال: سینکڑوں امیدوار دستبردار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں حکام کے مطابق مقامی انتخابات میں تقریباً چھ سو امیدواروں نے دستبردار ہونے کا اعلان کیا ہے۔ بی بی سی کے نمائندے کے مطابق اتنے بڑے پیمانے پر تبدیلی کی وجہ بظاہر ماؤ باغیوں کی جانب سے دی گئی تازہ دھمکی ہے جس میں امیدواروں کو سخت نتائج کی تنبیہ کی گئی ہے۔ امیدواروں کی دستبرداری کے بعد اب صورت حال یہ ہے کہ آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات کے لیے 4146 نشستوں میں سے ایک ہزار سے زائد نشتوں کے لیے کوئی امیدوار نہیں ہے۔ باغیوں سے خطرے کے پیش نظر بہت سے امیدواروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ جنوبی شہر جنک پردھم میں ستر سے زائد امیدواروں کو حکومت کے تربیتی مرکز میں رکھا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بہت سے امیدوار اپنے خاندان کے افراد کی جانب سے دباؤ میں آ کر انتخابات سے دستبردار ہو رہے ہیں۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت نے انہیں دھوکے اور دباؤ سے کھڑا کیا ہے۔ الیکشن حکام کے مطابق خواتین کے لیے مخصوص کی گئی نشستوں پر ساٹھ فیصد سے زیادہ کے لیے کوئی امیدوار نہیں ہے۔ بہت سے ضلعوں میں امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہو رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے ترجمان تیجمونی بجراچاریا نے کہا کہ’امتخابات صرف چھبیس لوکل کونسلوں میں ہوں گے جبکہ باقی بائیس میں امیدواروں کی عدم دستیابی کے باعث انتخابات منعقد نہیں ہوں گے‘۔ نیپالی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ الیکشن جمہوریت کی شاہراہ کا اہم سنگ میل ہیں۔ واضع رہے کہ فروری دو ہزار پانچ میں شاہ گینندر کی حکومت نے اقتدار پر مکمل قبضہ کر لیا تھا۔ لیکن حزب اختلاف کی بڑی جماعتیں ان انتخابات کا بائیکاٹ کر رہی ہیں اور پچھلے ہفتے ماؤ باغیوں نے مبینہ طور پر ایک امیدوار کو قتل کر دیا جبکہ ایک اور امیدوار کو اغواء کر لیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات ایک غیر قانونی حکومت کو قانونی جواز دینے کے لیے کروائے جا رہے ہیں۔ کھٹمنڈو میں باغیوں کے ایک رہنما نے انتخابات میں حصہ لینے والوں کو ’سنگین نتائج‘ کی دھمکی دی۔ نیپال کے شاہ نے دو ہزار سات کے وسط میں پارلیمانی انتخابات کروانے کا وعدہ کیا ہے۔ تشدد کے حالیہ واقعات میں مشرقی شہر بھوج پور میں گیارہ باغی اور دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس ماہ کے آغاز میں باغیوں کی طرف سے یکطرفہ سیز فائر کے خاتمے کے بعد تشدد کی نئی لہر آ گئی ہے۔ ماؤ باغیوں کی تحریک کے نتیجے میں گزشتہ دس سالوں کے دوران بارہ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ماؤ باغی بادشاہت کا خاتمہ اور کمیونسٹ حکومت کا قیام چاہتے ہیں۔ | اسی بارے میں کٹھمنڈو: سینکڑوں مظاہرین گرفتار21 January, 2006 | آس پاس کٹھمنڈو میں کرفیو، سینکڑوں گرفتار20 January, 2006 | آس پاس نیپال: فائرنگ سے 11 ہلاک15 December, 2005 | آس پاس نیپال: ریڈیو سٹیشن بند، پانچ گرفتار 28 November, 2005 | آس پاس باغیوں کاشاہ سے بات کرنے سےانکار 04 September, 2005 | آس پاس ماؤ باغی: جنگ بندی کااعلان03 September, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||