’جنگل راج کا دور‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار کے ویشالی ضلع میں دس ’چوروں‘ کو جمعرات کی صبح گاؤں والوں نے بے رحمی کے ساتھ مار مار کر موت کےگھاٹ اتار دیا۔ گزشتہ پیر کو اڑیسہ کے ایک گاؤں میں ہجوم نے ایک شخص کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا۔ اس شخص پر ایک عورت کو چھیڑنے کا الزام تھا۔ اتوار کو بہار کے بیگوسرائے ضلع میں ایک فیکٹری کے پرائویٹ گارڈز نے چوری کرنے والے دو نوعمر لڑکوں کو گولی مار دی ۔ یہ دونوں لڑکے سینکڑوں تماشائیوں کے درمیان زمین پر تقریباً پانچ گھنٹے پڑے رہے لیکن انہیں کوئی ہسپتال نہیں لے گیا اور بالآخر انکی موت ہوگئی۔ بہار کے نوادا ضلع میں ہجوم نے موٹر سائیکل چیھننے والے ایک نوجوان کی آنکھ نکال لی۔ منگل کے روز راجستھان کی ایک پنچایت تقربیاً پانچ سو سے زائد افراد کے کپڑے اتروا کر زخم کے نشان ڈھونڈھ رہی تھی تاکہ وہ آبرو ریزی کے ایک معاملے کا پتہ لگا سکے۔ اس طرح کے ’ہجومی انصاف‘ کے واقعات بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ملک کے مختلف خطوں سے روزانہ ہی کوئی نہ کوئی خبر آتی رہتی ہے جس میں مقامی ہجوم قانون اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور قصورواروں کو شدید تشدد کا نشانہ بناتا ہے۔ ایسا کیوں ہے کہ عام لوگ اب خود ہی مجرموں کو سزا دینے پر اتر آئے ہیں؟ بہت سے سماجی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ واقعات انتظامیہ کی ناکامی کے عکاس ہیں۔ لوگوں کا انصاف کے نظام سے یقین اٹھ رہا ہے۔ بہار کے سرکردہ صحافی جے پی یادو کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات ہمیشہ ہوتے رہے ہیں لیکن اب میڈیا کے سبب وہ زیادہ سامنے آنے لگے ہیں۔ یادو کا کہنا ہے: ’بہار جیسی ریاست میں عموماً غریب اور کمزور طبقہ ہی ہجوم کے تشدد کا نشانہ بنتا ہے۔ کمزور طبقے کے کسی فرد کو اجتماعی قتل سے کوئی ڈر بھی نہیں ہوتا کیونکہ ایسے واقعات میں پولیس کچھ نہیں کرتی ہے‘۔
ایشین ڈیولپمنٹ ریسرچ انسٹیٹوٹ کے ڈاکٹر شائیبل گپتا کا خیال ہے کہ یہ ایک ملک گير صورتحال ہے۔ ’ اس کا براہ راست تعلق مملکت کی کارکردگی سے ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ اگر مجرم کو چھوڑ دیا تو اسے سزا نہيں ملے گی۔ اس لیے اب وہ خود ہی سزائیں دینے لگے ہيں۔ ایسا یورپ اور امریکہ میں نہيں ہوتا کیوں کہ وہاں قانون کا نظام بہت مؤثر ہے اور مجرم بچ کر نہيں نکل سکتا‘۔ ہندوستان کے دیہی علاقوں میں اس طرح کا ’ہجومی انصاف‘ یا ’مابوکریسی‘ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ بی بی سی کے تجزیہ نگار نارائن باریٹھ کا کہنا ہے کہ یہ صورت حال عدالت اور پولیس میں لوگوں کے گھٹتے ہوئے اعتماد کی عکاس ہے۔ وہ راجستھان کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہيں کہ وہاں ’ اکثر گاؤں کی پنچایتیں قانون اپنے ہاتھ میں لیتی ہيں اور اپنے طریقے سے بے رحمی سے سزائیں دیتی ہيں۔ سزا پانے والوں میں عموماً دلت، قبائلی یا عورت ہی ہوتی ہے‘۔ دلی کے مشہور ماہر نفسیات ڈاکٹر سنجے چگ اجتماعی تشدد یا ’ہجومی انصاف‘ کے بارے میں بتاتے ہیں کہ اس میں ابتدا میں کچھ لوگ جائے واردات پر پہنچتے ہيں اور وہاں لوگوں کو بھڑکاتے ہيں۔ ایک بار آگ لگ جاتی ہے تو اسے پھیلنے میں دیر نہیں لگتی۔ ڈاکٹر چگ کہتے ہيں: ’معامشرے میں کہیں نہ کہیں تشدد کی نفسیات موجود ہے اور اکثر یہ گھٹی ہوئی نفسیات اجتماعی تشدد کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے‘۔ سیاسی و اقتصادی تجزیہ کار ڈاکٹر شائیبل گپتا کہتے ہيں کہ اس صورت حال کا بنیادی سبب حکومت کی ناکامی ہے۔ ’حکومت کو لوگوں میں اعتماد پیدا کرنا ہوگا۔ ایک بار اگر انہيں یہ یقین ہو جائے کہ حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے گی تو لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لینا خودبخود بند کر دیں گے‘۔ |
اسی بارے میں ملزم پر تشدد، پولیس اہلکار معطل28 August, 2007 | انڈیا بھاگلپور: پولیس اہلکار برطرف31 August, 2007 | انڈیا پولیو: یو پی اور بہار میں تشویش11 September, 2007 | انڈیا دیہاتیوں نے 10 ’چور‘ مار ڈالے13 September, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||