BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 September, 2007, 07:22 GMT 12:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دیہاتیوں نے 10 ’چور‘ مار ڈالے

بہار پولیس (فائل فوٹو)
بہار میں مجرموں کو پکڑ کر مارنے پیٹنے کے واقعات برابر پیش آتے رہتے ہیں
بہار کے دارالحکومت پٹنہ سے متصل ویشالی ضلع کے راجہ پاکڑ تھانے کے بھیل پوروا گاؤں میں جمعرات کی علی الصبح مقامی لوگوں نے دس مبینہ چوروں کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔

ریاست کے داخلہ سیکریٹری افضل امان اللہ کے مطابق اس واقعہ میں مارے گئے سبھی دس افراد کے پوسٹ مارٹم کا حکم دیا گیا ہے جبکہ مار پیٹ سے بری طرح زخمی ایک اور شخص کا علاج چل رہا ہے۔

مسٹر امان اللہ کا کہنا ہے کہ زخمی شخص کے ہوش میں آنے کے بعد اس کے بیان سے پورے معاملے کی بہتر اور صحیح جانکاری مل سکے گی۔

داخلہ سیکریٹری کے مطابق جائے وقوعہ پر اعلیٰ پولیس اور سول افسران کو بھیجا گیا ہے اور معاملے کی تفتیش کی جار ہی ہے۔

پولیس کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آج صبح تین چار بجے ایک گھر میں چوری کرتے وقت قریب پندرہ چوروں کو لوگوں نے پکڑ لیا۔ ان میں سے چار تو بھاگ نکلے، دس کی پٹائی سے موت ہو گئی اور ایک شخص پولیس کی تحویل میں زیر علاج ہے۔ پولیس کے مطابق مارے گئے افراد کے پاس سے چوری کا سامان بھی برآمد ہوا ہے۔

مقامی لوگوں کے حوالے سے یہ بات کہی جا رہی ہے کہ اس علاقے میں چوری کی وارداتیں زیادہ ہو گئی تھیں اور پولیس مبینہ طور پر کوئی کارروائی نہیں کر رہی تھی۔ دوسری جانب ویشالی کے ضلع میجسٹریٹ للن سنگھ کا کہنا ہے کہ ان کے نوٹس میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

واضح رہے کہ بہار میں مجرموں کو پکڑ کر مارنے پیٹنے کے واقعات برابر پیش آتے رہتے ہیں اور کئی بار اس پٹائی سے ان کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ چار دن قبل نوادہ ضلع میں تین موٹر سائیکل لٹیروں کو مقامی لوگوں نے پکڑ کر زبردست پٹائی کی۔ مبینہ طور پر ان میں سے ایک کی آنکھ بھی نکال لی گئی تھی۔

اسی طرح بھاگلپور شہر میں سونے کی چین چوری کے الزام میں پکڑے گئے اورنگ زیب نامی جوان کو پیٹنے اور بعد میں ایک پولیس اہلکار کے ذریعہ موٹر سائیکل سے گھسیٹے جانے کی ویڈیو ٹیپ کو دنیا بھر کے لوگوں نے دیکھاتھا۔

ریاست کے داخلہ سیکرٹری افضل امان اللہ عوام کے ذریعہ اس طرح سزا دینے کے رویے کو تشویش ناک بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کے حوصلے میں اضافہ ہوا ہے لیکن قانونی راستے کو چھوڑ کر خود سزا کا عمل حکومت کے لیے پریشان کن ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد