BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 August, 2007, 07:38 GMT 12:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہار: ایف آئی آر بذریعہ ای میل بھی

بہار میں بعض اوقات ایف آئی آر درج کرانے کے لئے عدالت سے رجوع کرنا پڑتا ہے
بہار میں کسی جرم کا شکار ہونا جتنا آسان ہے، پولیس میں اسکی رپورٹ درج کرانا اتنا ہی دشوار کام سمجھا جاتا ہے لیکن جلد ہی یہ مسئلہ ایک ای میل سے حل ہو سکے گا۔

ریاست میں انتظامی اصلاحات کے ادارے، ایڈمنسٹریٹٹو ریفارمز کمیشن، کے چیئرمین وجۓ شنکر دوبے نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ انکے کمیشن نے پولیس میں اصلاح کے لئے جو تجاویز پیش کی ہیں ان میں ایف آئی آر درج کرنے کے عمل کو آسان بنانا بہت اہم ہے۔ بقول مسٹر دوبے ’ان تجاویز میں ای میل کے ذریعہ ایف آئی آر درج کرنا بھی شامل ہے۔‘

مسٹر دوبے نے بتایا کہ کمیشن کے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ اکثر تھانوں میں عوام کو ایف آئی آر درج کرانے میں دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مسٹر دوبے کے مطابق ’ تھانے دار شکایت درج کرنے سے صاف انکار کر دیتا ہے یا شکایت کرنے والے کو کسی نہ کسی بہانے پریشان کرتا ہے۔‘

مسٹر دوبے نے بتایا کہ کمیشن نے سفارش کی ہے کہ جرم کا شکار کوئی شخص اپنی شکایت کی تفصیل ای میل سے بھیج دے تو اس شکایت کو بطور ایف آئی آر درج کر کے کارروائی کی جانی چاہیئے۔

مسٹر دوبے نے بتایا کہ ایف آئی آر درج کرانے کے لئے ای میل کے علاوہ رجسٹرڈ ڈاک سے بھی شکایات لینے کی سفارش کی گئی ہے۔ای میل کے ذریعہ ایف آئی آر درج کرانے کی یہ سہولت ملنے میں ابھی چند ماہ لگیں گے کیونکہ مذکورہ کمیشن مجوزہ اصلاحات سے متعلق اپنی رپورٹ آئندہ اکتوبر میں حکومت کے سپرد کرے گا۔

ریاست بہار میں عام طور پر یہ شکایت بھی کی جاتی ہے کہ تھانے میں کسی طرح رپورٹ درج کرنے کی رضا مندی مل بھی جائے تو عین ممکن ہے کہ شکایت کرنے والے سے ہی کاغذ اور کاربن پیپر لانے کے لئے کہہ دیا جائے۔ یہاں تک کہ کئی بار ایف آئی آر درج کرانے کے لئے عدالت سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔

حال ہی میں ایف آئی آر درج کرانے گئے دکاندار محمد محسن نے بتایا کہ انکی دکان پر بعض افراد نے رات میں توڑ پھوڑ کر دی۔ جب محسن اسکی رپورٹ درج کرانے تھانے پہنچے تو تھانے دار نے یہ کہ کر انہیں ہی حوالات میں ڈال دیا کہ اتنی رات دکان کیوں کھلی تھی۔ محسن نے بتایا کہ وہ کسی طرح کچھ لے دے کر وہاں سے چھوٹے۔

اسی طرح مارپیٹ کی شکایت کرنے پہنچے ایک شخص کو تھانے دار نے پہلے تو صلح کرنے کا مشورہ دیکر ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا اور پھر جب ایف آئی آر درج کرنےپر اصرار کیا گیا تو تھانے دار نے بکرا لانے کی شرط لگا دی۔

اس تجویز کے ناقدین کا کہنا ہےکہ جہاں تھانوں میں کاغذ نہیں ملتا وہاں کمپیوٹر اور ای میل جیسی تجویز کی کامیابی مشکوک ہے۔

اسکے جواب میں کمیشن کے چیئرمین مسٹر دوبے کہتے ہیں کہ آج ہر ایس پی اور اسکے اوپر کے اہلکار اور پٹنہ کے بعض تھانوں میں کمپیوٹرز لگے ہیں۔انہوں نے دلیل دی کہ ضلع اور سب ڈویژن ہیڈ کوارٹر تک میں دس روپے خرچ کر کے ای میل بھیجی جا سکتی ہے۔ان کے مطابق ضرورت اب بات کی ہوگی کہ لوگوں کو یہ معلوم ہو کہ ایف آئی درج کرانے کا ایک ذریعہ ای میل بھی ہے۔

مسٹر دوبے کہتے ہیں کہ اس تجویز کے ماننے سے ان لوگوں کو بھی آسانی ہوگی جن کے پاس جائے وقوع پر رک کر اپنی شکایت درج کرانے کا موقع نہیں ہوتا یا جنہیں تھانے کے دائرہ کار کے جھگڑے میں ایک تھانے سے دوسرے تھانے دوڑنا پڑتا ہے۔

بہار پولیس کے ایک ڈی آئی جی گپتیشور پانڈے کہتے ہیں کہ اس طرح کی تجویز ماننے سے ہر ماہ عدالتوں سے ایف آئی آر درج کرنے کے لئے موصول ہونے والے نوٹسوں سے محکمے کو نجات مل سکے گی۔

انتظامی اصلاحات
’ریاستی حکومت ناکام تو مرکز نظام سنبھالے‘
گجرات کا فرضی تصادم معاملہ اب فرقہ پرستی کا رنگ دینے کی کوشش ہورہی ہے۔جعلی مقابلے
جعلی پولیس مقابلے پرمذہبی رنگ
بہار پولیس’لاٹھی سے چاکلیٹ‘
بہار پولیس اب بچوں کو سکول بھی لائے گی
انڈین پولیساسلام کی تعلیم
انڈیا میں خصوصی پولیس عملے کی تربیت
ایڈز پوسٹر’پولیس میں ایڈز‘
ریاست بہار میں کچھ پولیس اہلکار ایڈز زدہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد