BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 September, 2007, 15:11 GMT 20:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اوقاف کی جائداد بدنظمی کا شکار

وقف کے اثاثے
وقف کی مدد سے چلنے والا مدرسہ عزیزیہ چند برسوں سے یہ بدحالی کا شکار ہے
مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ریاست بہار بشمول جھارکھنڈ میں وقف کیے گئے اثاثے زبردست بد نظمی اور بدحالی کا شکار ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ وقف کی وسیع و عریض جائداد کا منظم طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ اثاثے ریاست کے مسلمانوں کی پست حالی دور کرنے کا اہم ذریعہ بن سکتے ہیں۔

ریاستی وقف بورڈ میں گزشتہ پینتیس سالوں سے اکاؤنٹنٹ امتیاز حیدر کے مطابق بہار اور جھارکھنڈ میں سنی اور شیعہ وقف بورڈ سے منسلک تقریباً ستائس سو وقف سٹیٹس ہیں جن کے اثاثوں کی قیمت قریب چھ سو کروڑ روپے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں سے نصف اثاثے غیر قانونی قبضے میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حالیہ برسوں کی کوششوں سے اوقاف سے ہونے والی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے لیکن یہ آمدنی اب بھی کافی کم ہے۔

اوقاف کی زمین وسیع پیمانے پر غیر قانونی قبضے کا شکار ہے۔ اس وجہ سے اوقاف کے محکموں کو ضلعی عدالتوں میں تقریباً تین سو مقدمے لڑنا پڑ رہے ہیں۔ہائی کورٹ میں بھی اکسٹھ مقدمے زیر سماعت ہیں۔ان میں سے بعض مقدمے تو تیس سال پرانے ہیں۔

اوقاف کے لیے قائم مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین لال جان باشا کمیٹی کے دیگر ممبران کے ہمراہ اوقاف کی حالت کا جائزہ لینے کے لیے حال ہی میں ریاست کے تین روزہ دورے پر آئے تھے۔ مسٹر باشا کے مطابق اوقاف کی زمین اور عمارتوں پر کئی جگہ حکومت بھی قابض ہے اور کئی جگہوں پر وقف کی زمین کے سلسلے میں حکومت کے ساتھ مقدمے چل رہے ہیں۔

حکومت بہار کی جانب سے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو جو رپورٹ دی گئی ہے اس میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ وقف کی آدھی جائداد سے کوئی آمدنی نہیں ہوتی۔ جن اثاثوں سے آمدنی ہوتی ہے ان میں صرف تین فی صد ایسے ہیں جن کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ سے زائد ہے۔

وقف
وقف کی آدھی جائداد سے تقریباً کوئی آمدنی نہیں ہوتی

بہار سنی وقف بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر قمر الدین لاری کے مطابق وقف کی زمین پر دکانیں آمدنی کا بڑا ذریعہ بن سکتی ہیں لیکن کئی وجوہات کی بنا پر ان سے ملنے والے کرایے مضحکہ خیز حدتک کم ہیں۔

انکے مطابق پندرہ بیس سالوں سے کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے اور جن دکانوں سے ماہانا تین ہزار روپئے کی آمدنی ہو سکتی ہے ان سے محض سو روپئے مل رہے ہیں۔

ریاست میں مسلمانوں کی بدحالی پر حکومت کے لیے رپورٹ تیار کرنے والے ادارے ایشین ڈویلپمنٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے اہلکار شیبال گپتا کہتے ہیں کہ وقف کی جتنی جائداد ہے اسکا اگر ایک اچھے کارپوریٹ ہاؤس کی طرح استعمال ہو تو مسلمانوں کی بدحالی مٹانے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔

وقف کی املاک کے لحاظ سے نالندہ ضلع کافی ذرخیز تصور کیا جاتا ہے۔اس ضلع کے ہیڈ کوارٹر بہار شریف میں واقع صغریٰ وقف سٹیٹ کے جواں سال متولی عبدالحق کہتے ہیں کہ وقف کی جانب سے کئی فلاحی کام شروع کیے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وقف کی دکانوں اور زرعی زمین سے ہونے والی آمدنی مدرسے میں مقیم طلباء، ایک ہیلتھ سنٹر چلانے اور مسجدوں کے خرچ کے لیے تقسیم کی جاتی ہے۔

اس وقف کی مدد سے چلنے والا مدرسہ عزیزیہ ایک زمانے میں پورے علاقے میں شہرت رکھتا تھا لیکن چند برسوں سے یہ بدحالی کا شکار ہے۔طلبہ کے رجسٹر پر نام تو سینکڑوں بچوں کے ہیں لیکن مطالعہ کے لیے غیر مقیم بچے کم ہی آتے ہیں۔

وقف سٹیٹ
بہار اور جھارکھنڈ میں سنی اور شیعہ وقف بورڈ سے منسلک تقریباً ستائس سو وقف سٹیٹس ہیں

عبدالحق کہتے ہیں کہ انہوں نے مدرِسّوں سے اسکی بدحالی کا سبب جاننا چاہا تو انہوں نے اسکی ذمہ داری سابق متولی پر ڈال دی۔

خود بہار سنی وقف بورڈ عملے کی کمی کا شکار ہے۔ بورڈ کے سی ای او قمرالدین لاری کے مطابق پچاس کی جگہ صرف بیس سٹاف ممبر ہیں۔

بقول مسٹر لاری ’اتنے کم سٹاف میں سروے، بقایاجات کے لیے تقاضے کرنا اور مختلف وقف سٹیٹس سے رابطہ رکھنے جیسے دیگر کام میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں لیکن فنڈ کی کمی سے نئے سٹاف کی تقرری بھی ممکن نہیں ہے۔‘

بہار وقف بورڈ کے لیے ریاستی ریلیجیئس ٹرسٹ بورڈ کے چیئرمین کشور کنال کی کوششیں مثال بن سکتی ہیں۔ وہ مندروں اور مٹھوں کی زمین سے ہونے والی آمدنی کی بدولت مختلف مقامات پر ہسپتال چلا رہے ہیں۔ ان میں سے ایک مہاویر کینسر ہسپتال تو کافی مقبول ہے۔

مسٹر کنال کاکہنا ہے کہ وقف کی جائداد پر بہت زیادہ قبضہ ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بورڈ کے لوگوں نے ان سے رابطہ کیا ہے اور انکا مشورہ یہ ہے کہ وقف کی جائداد سے وسیع پیمانے پر رفاعی کام کیا جا سکتا ہے۔

بہار کے اقلیتی بہبود کے محکمے کے سیکریٹری رشید احمد خان کہتے ہیں کہ وقف کے اثاثوں کی حفاظت اور ان سے مطلوبہ آمدنی حاصل کرنے کے لیے حکومت نے حال ہی میں بعض اقدام کیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ کوشش ہو رہی ہے کہ تمام اوقاف کا سروے کروا کر یہ ریکارڈ تیار کیا جائے کہ وقف کی کتنی جائداد کہاں اور کس حالت میں ہے۔ اسکے علاوہ مقدمات کو جلد از جلد نمٹانے کے لیے ٹرائبیونل میں انکی منتقلی کی کوشش بھی شروع کی گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد