مہاراشٹر وقف بورڈ پر نکتہ چینی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دہلی سے ممبئی آنے والی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے مہاراشٹر وقف بورڈ کے ذریعے کئی اراضیوں کی مبینہ خرید و فروخت اور زمینوں پر ناجائز قبضہ کی شکایات پیش کی گئی ہیں۔ مہاراشٹر وقف بورڈ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے ممبئی کے رہائشیوں نے کہا کہ آج تک لوگوں کو یہ پتہ نہیں ہے کہ وقف بورڈ کے پاس کتنی زمین ہے جبکہ کتنی ہی زمینوں پر قبضہ ہو چکا ہے اور تو اور زمینوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا حساب کتاب نہیں بتایا جاتا اور یہ بھی پتہ نہیں کہ کتنی زمینیں فروخت کر دی گئی ہیں۔ مرکزی حکومت کی ایماء پر تیلگو دیسم کے رکن ِ پارلیمان لعل چاند پاشا کی سربراہی میں ایک دس رکنی وفد مختلف ریاستوں میں وقف کی جائیداد اور بورڈ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ملک گیر دورے پر ہے۔ ممبئی میں دو روزہ دورے کے دوران لوگوں نے وفد سے بورڈ کی مبینہ بے ضابطگیوں کا ذکر کیا۔ تاہم اس اجلاس میں صرف الٹا ماؤنٹ روڈ پر انڈیا کے امیر ترین تاجر مکیش امبانی کی زیر تعمیر عمارت اور مہاراشٹر میں وزیراعلیٰ ولاس راؤ دیشمکھ کے بھائی دلیپ دیشمکھ کو فروخت کی گئی زمین کا معاملہ حاوی رہا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ زمین وقف کی تھی اور اسے فروخت کیا جانا غیر قانونی تھا۔ لوگوں کا الزام تھا کہ یہ سب مبینہ بے ضابطگی بورڈ کے چیئرمین ایم اے عزیز کی نگرانی میں ہو رہی ہے۔ امبانی کو فروخت کی گئی زمین جس کا رقبہ 4,532 مربع فٹ ہے، وہاں پہلے کریم بھائی خوجہ یتیم خانہ تھا لیکن سن دو ہزار میں وقف کی یہ زمین فروخت کر دی گئی اور اب اس پر عالیشان عمارت تعمیر ہو رہی ہے۔
اجلاس میں شرکت کرنے والے افراد نے صادق قادری کی رپورٹ کے نفاذ کا بھی مطالبہ کیا جس کو مہاراشٹر کے وزیر برائے اوقاف انیس احمد نے چھ ماہ قبل وقف بورڈ کی مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے نامزد کیا تھا۔ یہ رپورٹ وزیر اعلیٰ دیشمکھ کو اکتیس مارچ کو سونپ دی گئی ہے۔ مہاراشٹر میں 55 ہزار ایکڑ کے رقبے پر وقف کی زمینیں ہیں لیکن ان میں سے بیشتر یا تو فروخت کر دی گئیں یا پھر ان پر ناجائز قبضہ کر لیا گیا ہے۔ ان میں چند تو ایسی ہیں جنہیں محض سو روپے ماہانہ پر لیز پر دیا گیا ہے۔ امبانی کو فروخت کی گئی زمین میں ہونے والے بے ضابطگی سے چیئرمین عزیز نے انکار کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ وہ زمین کچھ برس قبل انٹیلیا کمرشل گروپ کو محض اکیس کروڑ روپے میں فروخت کی گئی تھی لیکن سن دو ہزار تین میں چارج سنبھالنے کے بعد انہوں نے زمین کی قیمت نکالی اور بعد میں سترہ کروڑ روپے اور وصول کیے گئے جو وقف کے خزانے میں آئے۔ مسٹر عزیز نے وزیر اعلیٰ دیشمکھ کے بھائی کو فروخت کی گئی زمین کے بارے میں بھی صفائی دیتے ہوئے کہا:’اس زمین کے لیے برسوں تک قانون لڑائی لڑی گئی اور مراٹھواڑہ بورڈ اسے وقف کی زمین ثابت کرنے میں ناکام ہو گیا تھا‘۔ انہوں نے کہا کہ تین ایکڑ زمین نرمان بھارتی کمپنی کو پہلے ہی فروخت کر دی گئی تھی اسے بیچنے میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ اجلاس میں موجود ایڈوکیٹ سعید اختر نے کمیٹی سے سوال کیا کہ آخر عوام کو وقف بورڈ کی زمینوں کا فائدہ کیوں نہیں پہنچتا۔ انہوں نے وقف بورڈ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ممبئی کے اسماعیل یوسف کالج کی زمین پر ناجائز قبضہ ہٹا کر اسے کمیٹی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایڈوکیٹ سعید اختر کا کہنا تھا:’مہاراشٹر میں وقف کی اتنی زمینیں ہیں کہ اگر کوئی ایمانداری کے ساتھ اس کی دیکھ بھال کرے تو اس سے ہونے والی آمدنی سے مہاراشٹر کے مسلمانوں کی تعلیمی اور اقتصادی مدد کے لیے کسی اور کا سہارا نہیں لینا پڑے گا‘۔ ممبئی سے بھوپال کے لیے روانہ ہونے سے قبل لعل چاند پاشا نے اعتراف کیا کہ پورے ملک میں وقف بورڈ کی کاکردگی بہت ہی ناقص ہے۔ زمینیں فروخت کی جا رہی ہیں اور اس کا کوئی فائدہ مسلمانوں کو نہیں پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کرناٹک کی طرز پر مہاراشٹر میں بھی وقف بورڈ کو ریاستی حکومت کی طرف سے مالی امداد دینے پر زور دیا اور اسی لیے وزیر اعلیٰ نے پندرہ کروڑ روپے دینے کا وعدہ بھی کیا۔ مہاراشٹر کے شہر ممبئی، اورنگ آباد، جالنہ، مراٹھواڑہ میں وقف کی بے شمار زمینیں ہیں جنہیں وقت کے ساتھ ساتھ یا تو غیر قانونی طور پر فروخت کر دیا گیا یا پھر اس پر ناجائز قبضہ کر لیا گیا۔ مرکزی وقف کونسل کے سابق ممبر حبیب فقیہہ کے مطابق وقف کا مطلب ہے کہ وہ زمین اللہ کے نام وقف کر دی گئی ہے اس لیے اسے بغیر کسی صحیح وجہ کے فروخت نہیں کی جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود بڑے پیمانے پر مہاراشٹر میں زمینیں فروخت کر دی گئی ہیں کیونکہ پھر عدالت میں پیش کرنے کے لیے وقف کے پاس پرانے کاغذات بھی نہیں ملتے جس سے اس فروخت کو چیلنج کرنے والا اپنے دعوی کو صحیح ثابت کرے اور یہی دلیپ دیشمکھ کے کیس میں ہوا۔ |
اسی بارے میں سیاستدانوں میں زمین کی کشمکش30 September, 2006 | انڈیا این ڈی اے: کسانوں کو زمین واپس کریں28 December, 2006 | انڈیا وقف کردہ زمینوں پر بڑے پراجیکٹ18 November, 2006 | انڈیا تاج محل پر وقف بورڈ کا دعوی13 July, 2005 | انڈیا کشمیر: زمین کی نیلامی پرنظرثانی 23 November, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||