تاج محل پر وقف بورڈ کا دعوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیار و محبت کی نشانی تاج محل ایک بار پھر تنازعہ میں ہے۔اترپردیش کے وقف بورڈ نے تاج محل کو اپنی جائداد بتایا ہے اور کہا ہے کہ اسے بورڈ کے نام درج ہونا چاہئے۔ حالانکہ بورڈ نے یہ بھی کہا ہے کہ فی الوقت تاج محل کی دیکھ بھال آرکیلوجیکل سروے آف انڈیا کریگا۔ دوسری طرف آرکیلوجیکل سروے آف انڈیا یعنی آثار قدیمہ نے کہا ہے کہ وقف بورڈ کا یہ فیصلہ تاج محل کے حق میں نہیں ہے اور اسے عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ وقف بورڈ نے یہ فیصلہ الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک حکم کے تحت کیا ہے جس میں عدالت نے ریاست کے تمام مقبروں کو وقف بورڈ کی ملکیت بتایا تھا۔ محمد عرفان بیدار نامی ایک شخص نے اس کے لیے عدالت میں ایک عرضی داخل کی تھی۔ بیدار کا کہنا ہے کہ تاج محل ایک مقبرہ ہے اور وقف بورڈ کی ملکیت ہونے کے سبب اسکا ایک متولی مقرر کیا جانا چاہیے۔ لکھنؤ میں بدھ کے روز بورڈ کی میٹنگ کے بعد وقف بورڈ کے چئیرمین حافظ عثمان نے تاج محل پر ملکیت کے دعوے کا اعلان کیا ہے۔ اگر تاج محل کو وقف بورڈ کی جائداد تسلیم کرلیا جاتا ہے توسیّاحوں سے حاصل شدہ رقم کا سات فیصد حصہ بورڈ کو ملےگا۔ بورڈ کے چیئرمین حافظ عثمان کا کہنا ہے شنہشاہ شاہ جہاں کی وصیت کے مطابق اس سے حاصل رقم ثقافتی پروگرامز کے لیے استعمال کی جائیگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں باقی کارروائیاں ریاست کے وزیراعلی ملائم سنگھ یادو کے ساتھ صلاح و مشورے کے بعد طے کی جائیں گی۔ بورڈ کا کہنا ہے ممتاز محل کی قبر کے علاوہ تاج محل میں مسجد اور اسکے احاطے میں کئی اور قبریں ہیں۔ بورڈ کے اس فیصلے کے بعد ہی آثار قدیمہ یعنی آرکیلوجیکل سروے آف انڈیا اور ورلڈ ہیریٹیج کمیٹی حرکت میں آگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق تاج محل کو بچانے کے لیے یہ تنظیمیں نئی حکمت عملی پر غور وفکر کرہی ہیں۔ ڈربن میں ورلڈ ہیرٹیج یعنی عالمی ورثے کی محافظ کمیٹی کی جہاں میٹنگ جاری ہے وہیں دلی میں آثار قدیمہ کا دفتربھی حرکت میں آگیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||