BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 31 August, 2007, 22:00 GMT 03:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سچر کمیٹی، متعدد اقدامات کا فیصلہ
کانگریس ایک بار پھر مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے: بھارتیا جنتا پارٹی
ہندوستان کی حکومت نے ملک میں مسلمانوں کی اقتصادی اور تعلیمی پسماندگی دور کرنے کے لیے سچر کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں متعداد اقدامات کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے۔

پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں مسلمانوں کی نماندگی بہتر بنانے کے لیے بھی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

لوک سبھا میں سچر کمیٹی کی رپورٹ روشنی میں کیے گیے اقدامات کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے اقلیتی امور کے وزیر عبد الرحمن انتولے نے کہا کہ سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کا تناسب بہتر کرنے کے لیے حکومت نے ضروری ہدایات جاری کر دی ہیں۔

پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں مسلمانوں کی نماندگی بہتر کرنے کے لیے ایک اعلی اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو انتخابی حلقوں کی تشکیل سے متعلق قانون کا جائزہ لے گی۔

سچر کمیٹی نے سیاسی عمل میں نچلی سطح سے ہی مسلمانوں کو شامل کرنے کی سفارش کی تھی اور کہا تھا کہ جن حلقوں میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے وہ سیٹیں ریزرو نہ کیں جائيں۔

مسٹر انتولے نے حکومت کی طرف سے پندرہ نکات پر مشتمل عملی اقدامات کی رپورٹ پیش کی جس کے مطابق سرکاری اداروں، سرکاری کمپنیوں، بینکوں اور تعلیمی اداروں میں مسلمانوں کے لیے تناسب کو بہتر بنانے کے لیے پہلے ہی ہدایات جاری کی جا چکیں ہیں۔


رپورٹ کے مطابق حکومت نے مسلمانوں کی آبادی والے نوے اضلاع اور 338 شہروں پر توجہ مرکوز کی ہے۔ ان علاقوں میں مسلمانوں کے لیے نئے سکول کھولے جائں گے۔ بینکوں کی شاخیں بھی کھلیں گی اور مسلمانوں بالخصوص دستکاری اور گھریلو صنعت سے وابستہ لوگوں کو بینکوں سے آسانی سے قرضے مل سکيں گے۔

حکومت نے تکنیکی اور پیشہ وارانہ مضامین میں تعلیم حاصل کرنے والے مسلمان طلبہ کے لیے پہلے ہی بیس ہزار سکالرشپس کا اعلان کیا ہے۔

اب پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک کلاسز میں بھی مسلمان طلبہ کے لیے سکیم شروع کی جا رہی ہے۔

مسلمانوں کے خلاف ہر طرح کی تفریق کے معاملات کاجائزہ لینے کے لیے بھی ایک مساوی مواقع کمیشن قائم کرنے کا بھی اصولی طور پر قیصلہ کیا ہے۔

سچر کمیٹی مسلمانوں کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے قائم کی گئی تھی اور اس نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ مسلمان معیشت ، تعلیم، اور صحت کے ہر شعبوں میں بیشتر برادریوں سے پیچھے ہيں۔ کمیشن نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کی پسماندگی کے پیچھے کچھ حد تک حکومت کی پالیسیوں کا بھی دخل ہے۔

معروف دانشور اور جامعہ ملیہ کے وائس چانسلر مشیر الحسن کا کہنا ہے کہ حکومت کے ان اقدامات اور دعوؤں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے لیکن اس کے نفاذ کی بہت بڑی ذمےداری خود مسلمانوں اور ان کے رہنماؤں کی ہے کیوں کہ کوئی بھی سماج اور اقتصادی پالیسی ان کے تعاون اور مدد کے بغیر کامیاب نہيں ہو سکتی۔

تاہم بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکومت کے اقدامات پر نکتہ چینی کی ہے۔ پارٹی کے رہنما راجیو پرتاپ سنگھ روڈی کا کہنا تھا کہ ملک کی اکثریت بہت غریب ہے۔ ’لہذا حکومت کو مذہب کے بجائے غریبی کی بنیاد پر اس طرح کے اقدامات کرنے چاہئیں اور یہی ایک طریقہ ہے جو ملک کو آگے لے جا سکتا ہے‘۔

انہوں نے مزيد کہا کہ یہ قدم کسی نہ کسی طرح ووٹ کی سیاست کا حصہ ہے اور کانگریس ایک بار پھر مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد