لوکل کرائم، گلوبل تشویش، نتیجہ صفر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار کے شہر بھاگلپور میں گلے کی چین کی چوری کے الزام میں پولیس کے موٹر سائیکل سے باندھ کر ملزم کو گھسیٹنے کے واقعے کی ’مقامی‘ خبر پر’عالمی‘ تشویش کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ اس کا نتیجہ صفر رہے گا۔ دنیا بھرمیں جن لوگوں میں اس بات پر حیرت، صدمے اور غصے کی کیفیت پیدا ہوئی ہے انہیں یہ بات بتانے کی اشد ضرورت ہے کہ پولیس اگر ایسی ’ظالمانہ‘ کارروائی کر سکتی ہے تو اس کے اثرات زائل کرنے کی ترکیب بھی تیار رکھتی ہے۔ آج سے چند برس قبل جب جھارکھنڈ بہار کا حصہ ہوا کرتا تھا، ایک بچے کے ساتھ بدفعلی کے الزام میں دمکا شہر میں ایک پادری کو برہنہ کر کے سرِعام گھمایا گیا تھا۔ بھاگلپور میں تو اس واقعے میں ملوث اہلکار معمولی عہدوں پر فائز تھے لیکن دمکا میں باضابطہ ’پیلی بتی‘ لگانے والے افسر کی گاڑی اس ’جلوس‘ کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ پولیس نے اپنے دفاع میں اس وقت جو ’حکمت عملی‘ اپنائی تھی اسے وہ اس بار بھی دوہرا کر بچ جائے تو کم از کم بہار میں کسی کو کوئی حیرانی نہیں ہوگی۔ اس واقعے کے چوبیس گھنٹوں میں پولیس کے اہلکاروں نے جو بیانات دیے ہیں ان سے اس معاملے کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ پولیس نے اپنی ساری قوت اس بات پر صرف کی ہے کہ چوری کا ملزم سلیم نام کا نوجوان اچھے کردار کا نہ تھا اور اس کے خلاف کئی مقدمات تھانوں میں درج ہیں۔ بھاگلپور میں جن پولیس اہلکاروں کو پورے معاملے کی تفتیش کی ذمہ داری دی گئی ہے ان کا ابتدائی طور پر یہ کہنا ہے کہ چین چوری کے ملزم کو گھسیٹا نہیں گیا بلکہ وہ موٹر سائیکل سے تھانے لانے کے دوران گر پڑا۔ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پولیس والے سلیم کو بھیڑ سے بچانے گئے تھے۔ پولیس کے مطابق جائے وقوعہ پر موجود افراد نے سلیم کو اس لیے موٹر سائیکل سے باندھ دیا کہ وہ بھاگ نہ سکے۔
بھاگلپور کے ایس پی جتندر سنگھ گنگوار نے بتایا کہ پولیس فی الحال علاقے میں امن و امان قائم کرنے میں مصروف ہے۔ واقعے میں ملوث دونوں پولیس والوں کو معطل کر کے لائن حاضر کر دیا گیا ہے لیکن ان پر اس مجرمانہ فعل کے لیے مقدمہ چلانے کی ضرورت نہیں سمجھی جا رہی۔ ان کا کہنا ہے ’انکوائری چل رہی ہے، اس کی رپورٹ آنے کے بعد ہی مزید کارروائی ہوگی‘۔ ملزم یا مجرم کو بھیڑ کے ذریعے پیٹے جانے کا ریاست میں یہ پہلا یا آخری واقعہ نہیں۔ یہ ضرور ہے کہ کسی پولیس والے کی بربریت کو اس طرح کیمرے میں قید نہیں کیا گیا تھا۔ پیپلز یونین فار سول لبرٹیز کے ریاستی صدر ونئے کنٹھ کہتے ہیں کہ انسانی حقوق کے قومی ادارے این ایچ آر سی نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیا ہے لیکن بقول مسٹر کنٹھ این ایچ آر سی نے ماضی میں کئی پولیس والوں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے جس کا نتیجہ صفر ہی رہا۔ معاملہ صرف یہ نہیں کہ پولیس ملزموں کے ساتھ ماورائے قانون کارروائی کرتی ہے بلکہ ہجوم بھی نہیں چاہتا کہ کوئی قانونی کارروائی ہو۔ عام تاثر یہ ہے کہ کسی ملزم یا مجرم کو پولیس کے حوالے کرنے کا مطلب ہے کہ کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔اس معاملے میں پولیس کے اہلکار دبی زبان سے پیچیدہ قانونی عمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجرم کے بچ جانے سے بہتر ان کا موقع پر ہی کام تمام کرنا دینا ہے۔ مسٹر کنٹھ کہتے ہیں کہ اکثر جب یہ خبر ملتی ہے کہ کسی ملزم یا مجرم کو ہجوم نے پیٹ پیٹ کر مار دیا تو اس معاملے میں پولیس کی ملی بھگت رہتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پولیس کسی معاملے میں براہِ راست ملوث ہو یا بلاواسطہ طور پر، اکثر پولیس والے عارضی کارروائی کے بعد بچ کر نکل جاتے ہیں۔ بقول مسٹر کنٹھ ’اکثر ان معاملوں میں فالو اپ ایکشن نہیں ہو پاتا۔ نہ میڈیا اس کا خیال رکھتا ہے اور نہ انسانی حقوق کی تنظیمیں‘۔ انہوں نے کہا کہ اب اطلاعات تک رسائی کے قانون کے تحت ان کی تنظیم حکومت سے ایسے معاملوں میں کی گئی کارروائی کی تفصیل حاصل کرے گی۔ پولیس کے ترجمار آئی جی انل کمار سنہا کے مطابق چوری کے ملزم کو گھسیٹنے کے ملزم پولیس والوں کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کا جواب تسلی بخش نہ ہوا تو انہیں برخاست کیا جا سکتا ہے۔ ایسا ہوتا ہے تو یہ بہار میں پولیس کی ’پولیسنگ‘ کا نیا باب شروع ہوگا۔ |
اسی بارے میں ملزم پر تشدد، پولیس اہلکار معطل28 August, 2007 | انڈیا بھاگل پور فساد: معاوضوں کا معیار28 August, 2007 | انڈیا ’سیلاب متاثرین امداد سےمحروم‘27 August, 2007 | انڈیا خواجہ سراؤں کی علاقائی لڑائی20 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||