BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 August, 2007, 11:42 GMT 16:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سیلاب متاثرین امداد سےمحروم‘

بہار سیلاب
ریاستی وزیرِ اعلیٰ نے امدادی کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کیا ہے
بھارتی ریاست بہار کی پانچ غیرسرکاری تنظیموں پر مبنی ایک گروپ ’دلت واچ‘ نے اپنے تازہ جائزے میں یہ انکشاف کیا ہے کہ ریاست کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے 60 فیصد علاقوں میں ابھی تک راحت اور دیگر امدادی سامان بالکل نہیں پہنچا ہے۔

یہ رپورٹ سرکار کے اس دعوے کو مسترد کرتی ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ تمام متاثرہ علاقوں میں امدادی کام چلائے جا رہے ہیں۔

اس گروپ کے تقریباً ڈیڑھ سو کارکنوں پر مشمل ٹیم نے لگ بھگ تین ہزار متاثرہ گا ؤں کے دورے کے بعد یہ انکشاف کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن علاقوں میں امدادی سامان نہیں پہنچا ہے 75 فی صد گاؤں دلتوں کے ہیں جبکہ 66 فیصد مسلمانوں کی آبادی والے گاؤں امداد سے محروم ہیں۔

ان پانچوں غیر سرکاری تنظیموں کی قیادت ’ناری گونجن‘ تنظیم کی رکن سدھا ورگیز کر رہی ہیں جنہیں ہندوستان کی مرکزی حکومت نے گزشتہ برس ان کی سماجی خدمات کے پیشِ نظر پدم شری ایوارڈ سے نوازا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے سیلاب کے شکار کئی علاقوں کے لوگ الزام لگا تے رہے ہیں کہ ان کے سیاسی اور سماجی رحجانات کو مدّنظر رکھ کر امدادی سامان فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کی خبریں سمستی پور اور مشرقی چمپارن سمیت متعدد علاقوں سے موصول ہوئی ہیں۔

سیلاب اور سیاست
سیلاب زدگان
 ’سیاسی لیڈران سیلاب زدہ علاقوں میں پشتہ بنا کر ہی اپنی سیاست چلاتے ہیں، پشتہ بنانے کا کام ان کےلیے پسیہ بنانے والی فیکٹری کی طرح ہے۔ وہ یہ نہیں چاہتے کہ ریاست سے سیلاب کی تباہ کاری ختم ہو
سدھا ورگیز، سماجی کارکن

مشرقی چمپارن ضلع کے آدا پور علاقے میں اناج تقسیم کرنے میں من مانی کے بعد لوگ نہ صرف آپس میں جھگڑنے لگے بلکہ تصادم میں ایک شخص کی جان چلی گئی۔

غیرسرکاری تنظیموں کے اس دعوے کے بعد سابق مرکزی وزیر اور ریاست کی حکمران جماعت جنتا دل یونائٹیڈ کے سینئیر رہنما جارج فرنانڈس کے اس الزام کو تقویت ملتی ہے جس میں انہوں نے نتیش کمار کی سرکار کے بارے میں کہا تھا کہ وہ سیلاب سے متاثرہ علاقے میں عوام کے سیاسی رحجانات کو دیکھ کرامدادی کارروائی کر رہی ہے۔

سدھا ورگیز نے کہا ہے کہ سیلاب زدگان کی راحت کے جو بھی کام کیے جا رہے ہیں اس میں حکومت سراسر جھوٹ بول رہی ہے۔

انہوں نے کہا: ’سیاسی لیڈران سیلاب زدہ علاقوں میں پشتہ بنا کر ہی اپنی سیاست چلاتے ہیں، پشتہ بنانے کا کام ان کےلیے پسیہ بنانے والی فیکٹری کی طرح ہے۔ وہ یہ نہیں چاہتے کہ ریاست سے سیلاب کی تباہ کاری ختم ہو‘۔

دلت واچ کا کہنا ہے کہ اس تباہ کن سیلاب میں دلتوں اور مسلمانوں کے 60 فیصد سے زیادہ مکانات منہدم ہو گئے ہیں۔ دلت واچ نے اپنی تازہ رپورٹ حکومت کو جمع کروائی ہے۔

ادھر ریاست کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے حکومت کی امدادی کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سیلاب سے متاثرہ ہر ایک فرد تک امداد پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے سرکاری اہلکاروں کو ہدایت دی ہے کہ متاثرہ علاقوں کے ہر فرد کو اب 25 کلوگرام اناج کے بدلے سوکلو گرام اناج فراہم کریں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد