مون سون سے تباہی، مزید سیلاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست بہار میں سیلاب کی صورتحال میں بحیثیت مجموعی کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی ہے اور ریاست کے بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے۔ اب تک ریاست میں تین سو اٹھارہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور سنیچر کو بھی بُرہی گندک، پگمتی، کوسی اور گندک کے دریاؤں میں پانی خطرے کے نشانات سے اوپر بہہ رہا تھا۔ ادھراقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ مون سون کی موسلا دھار بارشوں کے باعت سیلاب کا شکار ہونے والے جنوبی ایشیائی ممالک کو خواراک کی کمی کا سامنا ہے۔ انڈیا کی مرکزی حکومت کے اعداد وشمار کے مطابق اب تک ملک بھر میں تین کروڑ اسی لاکھ افراد بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہو چکے ہیں۔ ملک کے دو سو چار متاثر ہونے والے اضلاع میں بارہ لاکھ سے زائد مکانات تباہ ہو گئے ہیں یا انہیں جزوی نقصان پہنچا ہے۔ سب سے زیادہ لوگ ریاست بہار، اترپردیش، آسام اور اڑیسہ میں متاثر ہوئے ہیں جن کی تعداد چوبیس لاکھ تک ہے۔ ان میں پانچ سال سے کم عمر کے تیس لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ آئندہ اڑتالیس گھنٹوں میں بھی بہار کے بڑے دریاؤں میں سیلاب کی صورتحال میں بہتری کے امکانات نظر نہیں آ رہے ہیں۔ سینٹرل واٹر کمیشن کے مطابق ارد گرد کے علاقوں میں مسلسل بارشوں کی وجہ سے دریاؤں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ریاست دارالحکومت پٹنہ سے نامہ نگار ایس ایم احمد نے بتایا ہے کہ سنیچر کو شہر میں موسم کھلا رہا اور محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ دو دنوں میں بارش کے رکنے کا امکان ہیں لیکن ایسی پیشن گوئیاں گزشتہ چار ہفتوں میں کئی بار غلط ثابت ہو چکی ہے۔ ریاست کے علاوہ نیپال میں ہو رہی زبردست بارش کی وجہ سے مختلف ندیوں کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔ندیوں کی طغیانی کی وجہ سے دیہی علاقوں کے علاوہ موتیہاری، بگہہ، رکسول اور شیوہر کے شہری علاقوں میں بھی سیلاب کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ آبی ماہرین کے مطابق شمالی ہندوستان میں آئندہ ہفتوں میں مزید بارش کا امکان ہے کیونکہ مون سون ابھی اپنے عروج پر ہے۔ حکومت کے مطابق سیلاب زدگان کی امداد کے طور پر پونے دو لاکھ کوینٹل گیہوں، پچاس ہزار کوینٹل چاول، ساڑھ چھ ہزار کوینٹل چوڑا تقسیم کیے گئے ہیں۔اسکے علاوہ قریب بارہ کروڑ روپے نقد بھی دیے گیے ہیں لیکن ریاست میں کئی مقامات پر متاثرین امداد نہ ملنے پر مظاہرے کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے بچوں کی بہبود کے ادارے یونیسف نے خدشہ ظاہر کیا ہے جنوبی ایشیائی ممالک، خصوصاً انڈیا میں کئی علاقوں میں کھڑا سیلابی پانی مچھروں اور آبی جراثیموں کی آماجگاہ بن سکتا ہے جس سے بچوں میں وبائی امراض پھیل سکتی ہیں۔ یونیسیف نے ریاست بہار میں گزشتہ دو دنوں میں ضروری سامان سے لدے پانچ ٹرک بھجوائے ہیں۔ اس دوران اقوام متحدہ کے خوراک کے ادرے نے کہا ہے سیلاب سے متاثر ہونے والے ملکوں میں مویشیوں اور کھڑی فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کے باعت خوراک کی کمی کا شدید خدشہ ہے۔ ادارے کے مطابق انڈیا کی بہار، اتر پردیش اور آسام کی ریاستوں میں متاثر ہونے والی فصلیں ملک کی چاول کی ضرویات کا ایک چوتھائی ہیں۔ بنگلہ دیش میں حکام نے بتایا ہے کہ ناقص پانی اور گلی سڑی خوراک کھانے کی وجہ سے کم سے کم ساٹھ ہزار افراد بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ ادھر نیپال میں بین الاقامی امدادی اداروں کے کارکن ملک کے جنوبی علاقوں میں سیلاب میں پھنسے متاثرین تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن مسلسل بارشوں کی وجہ سے وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں متاثرین تک پہنچنے میں مشکلات08 August, 2007 | انڈیا ’طبی امداد کی فراہمی بڑا مسئلہ‘10 August, 2007 | انڈیا تودہ گرنے سے ہلاکتوں کا خدشہ15 August, 2007 | انڈیا بہار: ایڈز کے مریضوں کی مشکل13 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||