متاثرین تک پہنچنے میں مشکلات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست بہار میں آنے والے بد ترین سیلاب کے متاثرین کی بازیابی اگلے کئی ہفتوں تک مشکل نظر آ رہی ہے کیونکہ تمام کوششوں کے باوجود سیلاب زدہ لوگوں کے لیے رہائش اور خوراک کی فراہمی اب بھی مسئلہ بناہوا ہے۔ ان افراد کو صحت اور صفائی کی بنیادی سہولتیں بھی نہیں مل رہی ہیں۔ انڈین ریڈ کراس سوسائٹی اور اقوام متحدہ کی بچوں کی تنظیم یونیسیف کے مطابق سیلاب زدگان نہایت غیرمناسب حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں جسکی وجہ سے قے، دست اور خسرے جیسی بیماریوں کے وبائی شکل اختار کرنے کا خدشہ ہے۔ یونیسیف کے اہلکار جوب ذکریا نے بدھ کو میں بی بی سی کو بتایا کہ پانچ سال کی عمر کےتقریباً پندرہ لاکھ بچے سیلاب سے متاثر ہیں۔ ان کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والے نو اضلاع کے بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے والی دوا بھی نہیں دی جا سکی ہے۔ مسٹر جوب نے بتایا کہ یونیسیف پانی صاف کرنے والی گولیوں کے علاوہ ایک خاص قسم کے سٹرا (یا پائپ) تقسیم کر رہی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ضرورت کے نسبت یہ تعداد بہت کم ہے۔ ریڈ کراس سوسائٹی کی بہار شاخ کے ڈائریکٹر شو پوجن سنگھ اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ سوا کروڑ لوگ سیلاب زدگان میں سے دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوگئے ہیں اور کم از کم پانچ لاکھ لوگ اب بھی کھلے آسمان کے نیچے پولیتھن شیٹ یا کپڑا ٹانگ کر رات دن گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان افراد کے لیے اپنےگھروں میں لوٹ کر معمول کی زندگی شروع کرنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔مسٹر سنگھ کے مطابق ان کی گھروں کو واپسی امدادی کارروائی کے ساتھ ساتھ اس بات پر منحصر ہے کہ ان علاقوں سے ندیوں کا پانی کب ختم ہوتا ہے اور آئندہ کتنی بارش ہوتی ہے۔ دونوں اہلکاروں نے بتایا کہ فوری خطرہ یہ ہے کہ کھلے آسمان کے نیچے رہ رہے لوگ پینے کے صاف پانی کی قلت کے باعث دست جیسی بیماریوں کے شکار ہو جائیں گے۔ اسکے علاوہ گرمی اور بارش کی وجہ سے وائرل بخار کے پھیلنے کا خطرہ ہے۔ سیلاب زدہ لوگوں کی رہائش اور خوراک کا انتظام کرنے میں ایک بڑا مسئلہ متاثرین تک رسائی کے راستوں کا بند ہونا ہے۔ امارش شریعہ پٹنہ کے اہلکار مولانا انیس الرحمٰن قاسمی نے بتایا کہ ریلیف کا سامان موجود ہے لیکن کئی علاقوں میں کشتی نہیں ملنے کی وجہ سے پریشانی ہو رہی ہے۔ دریں اثناء بہار کی حکومت نے ریاست کے دورے پر آئے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ شوراج پاٹیل کو سیلاب زدگان کی مدد کے لیے ضرورتوں کی تفصیل سے آگاہ کیا ہے۔ ریاستی حکومت نے مرکز سے فوری طور پر تین ہزار کروڑ روپے سے زائد کے اقتصادی تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔ |
اسی بارے میں بہار میں بارش سے لاکھوں افراد متاثر23 July, 2007 | انڈیا اور اب امداد پہنچانے کی جنگ07 August, 2007 | انڈیا بہار: امدادی کارروائیاں شروع05 August, 2007 | انڈیا بہار سیلاب: ایک کروڑ افراد متاثر04 August, 2007 | انڈیا انڈیا: تباہ کن سیلاب سے ہلاکتیں03 August, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||