BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
متاثرین تک پہنچنے میں مشکلات

سیلاب کے متاثرین
پانچ سال کی عمر کےتقریباً پندرہ لاکھ بچے سیلاب سے متاثر ہیں
ریاست بہار میں آنے والے بد ترین سیلاب کے متاثرین کی بازیابی اگلے کئی ہفتوں تک مشکل نظر آ رہی ہے کیونکہ تمام کوششوں کے باوجود سیلاب زدہ لوگوں کے لیے رہائش اور خوراک کی فراہمی اب بھی مسئلہ بناہوا ہے۔ ان افراد کو صحت اور صفائی کی بنیادی سہولتیں بھی نہیں مل رہی ہیں۔

انڈین ریڈ کراس سوسائٹی اور اقوام متحدہ کی بچوں کی تنظیم یونیسیف کے مطابق سیلاب زدگان نہایت غیرمناسب حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں جسکی وجہ سے قے، دست اور خسرے جیسی بیماریوں کے وبائی شکل اختار کرنے کا خدشہ ہے۔

یونیسیف کے اہلکار جوب ذکریا نے بدھ کو میں بی بی سی کو بتایا کہ پانچ سال کی عمر کےتقریباً پندرہ لاکھ بچے سیلاب سے متاثر ہیں۔ ان کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والے نو اضلاع کے بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے والی دوا بھی نہیں دی جا سکی ہے۔

مسٹر جوب نے بتایا کہ یونیسیف پانی صاف کرنے والی گولیوں کے علاوہ ایک خاص قسم کے سٹرا (یا پائپ) تقسیم کر رہی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ضرورت کے نسبت یہ تعداد بہت کم ہے۔

ریڈ کراس سوسائٹی کی بہار شاخ کے ڈائریکٹر شو پوجن سنگھ اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ سوا کروڑ لوگ سیلاب زدگان میں سے دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوگئے ہیں اور کم از کم پانچ لاکھ لوگ اب بھی کھلے آسمان کے نیچے پولیتھن شیٹ یا کپڑا ٹانگ کر رات دن گزار رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان افراد کے لیے اپنےگھروں میں لوٹ کر معمول کی زندگی شروع کرنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔مسٹر سنگھ کے مطابق ان کی گھروں کو واپسی امدادی کارروائی کے ساتھ ساتھ اس بات پر منحصر ہے کہ ان علاقوں سے ندیوں کا پانی کب ختم ہوتا ہے اور آئندہ کتنی بارش ہوتی ہے۔

دونوں اہلکاروں نے بتایا کہ فوری خطرہ یہ ہے کہ کھلے آسمان کے نیچے رہ رہے لوگ پینے کے صاف پانی کی قلت کے باعث دست جیسی بیماریوں کے شکار ہو جائیں گے۔ اسکے علاوہ گرمی اور بارش کی وجہ سے وائرل بخار کے پھیلنے کا خطرہ ہے۔

سیلاب زدہ لوگوں کی رہائش اور خوراک کا انتظام کرنے میں ایک بڑا مسئلہ متاثرین تک رسائی کے راستوں کا بند ہونا ہے۔

امارش شریعہ پٹنہ کے اہلکار مولانا انیس الرحمٰن قاسمی نے بتایا کہ ریلیف کا سامان موجود ہے لیکن کئی علاقوں میں کشتی نہیں ملنے کی وجہ سے پریشانی ہو رہی ہے۔

دریں اثناء بہار کی حکومت نے ریاست کے دورے پر آئے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ شوراج پاٹیل کو سیلاب زدگان کی مدد کے لیے ضرورتوں کی تفصیل سے آگاہ کیا ہے۔ ریاستی حکومت نے مرکز سے فوری طور پر تین ہزار کروڑ روپے سے زائد کے اقتصادی تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔

سیلاب زدہسیلاب سے تباہی
متاثرین کوخوراک اور ادویات کی قلت کا سامنا
جنوبی ایشیا سیلابامداد شدید مشکل
جنوبی ایشیاء میں سیلاب متاثرین کو مشکلات
سیلاب کے متاثرینپناہ گزینوں کی شاہراہ
سیلاب کے متاثرین نے قومی شاہراہ پر پناہ لے لی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد