BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 August, 2007, 15:32 GMT 20:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا: تباہ کن سیلاب سے ہلاکتیں
 جنوبی ایشیا میں سیلاب
صرف ریاست بہار میں تراسی لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں
ہندوستان کے شمالی، شمال مشرقی اور مشرقی علاقے زبردست سیلاب کی زد میں ہیں۔ اترپردیش، بہار، مغربی بنگال اور آسام سے اموات کی خبریں ہیں۔ اترپردیش کے مشرقی علاقوں میں بھی مسلسل بارش کے سبب کئی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔

بارش اور سیلاب میں مرنے والوں کی تعداد سرکاری طور پر ڈیڑھ سو سے زیادہ بتائی گئی ہے جبکہ غیرسرکاری اعداد وشمار اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ ریاست اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش میں بھی گزشتہ کئی دنوں سے بارش کے سبب کئي مقامات پر ہزاروں سیاح اور دوسرے لوگ پھنس گئے ہیں۔ دہرہ دون میں کئی مقامات پانی کی زد میں آ گئے ہیں۔

ادھر آسام میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ بعض مقامات پر ہیلی کاپٹر کی مدد سے متاثرہ لوگوں تک کھانے کے پیکٹ پہنچائے گئے ہیں۔ مغربی بنگال کی صورتحال بھی مختلف نہیں ہے۔ ریاست کے بیشتر علاقوں میں گزشتہ کئی دنوں سے بارش ہو رہی ہے۔

بہار میں بگڑتی ہوئی صورتحال
شمالی ریاست بہار میں سیلاب کی صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے ۔ پٹنہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایم ایس احمد نے سرکاری حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ جمعرات تک ریاست میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر تراسی لاکھ ہوگئی تھی۔

 سیلاب زدہ علاقوں میں ایک اہم مسئلہ علاج و معالجہ کا ہے۔ مغربی چمپارن کے گاؤں سیمرا کے ایک مدرسے میں جہاں تقریباً ایک ہزار طلبہ ہر طرف پانی سے گھرے ہیں وہاں کے درجنوں بچے گندہ پانی پینے سے بیمار ہیں۔ مدرسے کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ انکے پاس کہیں سے کوئی مدد نہیں پہنچی ہے حالانکہ مقامی انتظامیہ کہہ رہی ہے کہ جلد ہی کشتی کے ذریعے مدرسے کے بچوں کی مدد کی جائے گی۔
ریاست میں بارش اور سیلاب کے بیس سے زیادہ دن گزرنے کے بعد حکومت، سیاسی لیڈران اور عدالت کے ساتھ ساتھ قومی میڈیا میں اب تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

حکومت کی جانب سے اب فوڈ پیکٹ کی ایئر ڈراپنگ کی بات کی جا رہی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق جن سیلاب زدہ علاقوں میں سڑک یا کشتی سے پہنچنا مشکل ہے وہاں فوج کے ہییلی کاپٹر سے کھانے کے پیکیٹ پہنچانے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔

وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ماریشس کے دورے سے جمعرات کو پٹنہ لوٹنے کے بعد اپنے وزراء کے ساتھ میٹنگ کی اور اب وہ فضائی اور زمینی معائنہ کریں گے۔ ریاست کے گورنر آر ایس گوئی نے ریڈ کراس سوسائٹی، غیر سرکاری تنظیموں اور دیگر امدادی اداروں سے مدد کی اپیل کی ہے۔

حکومت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق سیلاب سے جمعرات تک اکتالیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ آزاد ذرائع یہ تعداد ڈیڑھ سو سے زائد بتا رہے ہیں۔

سیلاب کی وجہ سے ا پنا گھر بار چھوڑ کر جو لوگ پشتوں اور ریل لائنوں جیسی کھلی جگہ میں چوکی اور پالیتھین شیٹ کے سہارے جی رہے ہیں انکے سامنے پورے خاندان کو بِنا کسی پرائویسی کے رہنے کی مجبوری ہے۔

اسی مشکل میں پھنسی مظفرپور کے اورائی علاقے کی ایک خاتون کا کہنا تھا: ’کسی طرح بھونجا پھانک کر ایک ہی پنّی (پلاسٹک شیٹ) کے نیچے بیٹے، بیٹی اور بہو کے ساتھ نرک بھوگ رہے ہیں۔‘

ہر طرف پانی سے گھرے لوگوں کے لئے پینے کا پانی تلاش کرنا بھی بےحد مشکل کام ہے۔ تمام ’چاپا کل‘(نلکے) پانی میں ڈوب چکے ہیں اور کنوؤں میں بھی ندی کا پانی بھر چکا ہے۔ ایسے میں سیلاب زدہ افراد کو کئی کلو میٹر چل کر پانی لانا پڑ رہا ہے۔

 میونسپل کارپوریشن میں محکمۂ صحت افسر کے مطابق بارش سے ہونے وبائی بیماریوں کی وجہ سے اب تک 86 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز چار افراد کی موت واقع ہوئی ان میں ایک لیپٹوپائریسیس، دو کم سن بچے وائرل بخار اور ایک عورت کی ملیریا کی وجہ سے موت واقع ہوئی۔
سیلاب زدہ علاقوں میں ایک اہم مسئلہ علاج و معالجہ کا ہے۔ مغربی چمپارن کے گاؤں سیمرا کے ایک مدرسے میں جہاں تقریباً ایک ہزار طلبہ ہر طرف پانی سے گھرے ہیں وہاں کے درجنوں بچے گندہ پانی پینے سے بیمار ہیں۔ مدرسے کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ انکے پاس کہیں سے کوئی مدد نہیں پہنچی ہے حالانکہ مقامی انتظامیہ کہ رہی ہے کہ جلد ہی کشتی کے ذریعے مدرسے کے بچوں کی مدد کی جاۓ گی۔

علاج کے لۓ مظفرپور پہنچی ایک بزرگ خاتون نے بتایا کہ گاؤں میں کوئی معالج ملا نہیں اور شہر آنے کے لۓ کشتی والے پانچ روپے کی جگہ پچاس روپے وصول رہے ہیں۔اس خاتون نے بتایا کہ وہ اپنی ’ہنسولی‘ گروی رکھ کر ضروری پیسوں کا انتظام کرکے شہر آئی ہیں۔

اسی طرح موتیہاری کے کئی علاقوں سے یہ خبر ملی کہ سیلاب کی وجہ سے حاملہ عورتوں کو تولد کے وقت خاطر خواہ طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے کئی نوزائیدہ بچوں کی جانیں چلی گئیں۔

سیلاب کی وجہ سے جب سمستی پور اور دوسری جگہوں پر ریل سروس منقطع ہوئی تو مسافروں کو رات اسٹیشنوں پر گزارنی پڑی۔ ایسے لوگ دن میں دس دس گھنٹے پیدل چل کرنزدیک کے اپنے رشتہ داروں تک پہنچے۔

ممبئی میں بارش سے زندگی درہم برہم
ادھر ممبئی سے ہماری نامہ نگار ریحانہ بستی والا نے خبر دی ہے کہ گزشتہ رات سے جاری بارش نے ممبئی میں ایک بار پھر نظام زندگی کو درہم برہم کر دیا ہے۔ ممبئی کے کئی علاقوں میں پانی دو سے تین فٹ تک بھر چکا ہے۔ بسیں اور ٹرینیں تاخیر سے چل رہی ہیں۔ ہوائی پروازوں پر بھی اثر ہوا ہے۔

ممبئی کی سڑکوں پر سیلاب
ممبئی اور اس کے شہری اس موسم کی تیسری موسلا دھار بارش اور اس سے ہونے والی تباہیوں سے دوچار ہیں۔ رات بھر بارش ہونے کی وجہ سے صبح کام پر جانے والوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

الکا مہاڈیشور کو گھاٹ کوپر سے وی ٹی آنے کے لیے تین گھنٹے لگے کیونکہ سیٹرل ریلوے کی پٹڑیوں پر پانی بھرا تھا۔ مس ایس مانکیہ روزانہ کرلا سے چرچ گیٹ آنے کے لیے بس کے ذریعہ سفر کرتی ہیں لیکن بسیں جگہ جگہ پانی بھرے ہونے کی وجہ سے کافی رک رک کر چل رہی تھیں اور وہ اسی وجہ سے کام پر دیر سے پہنچیں۔

ممبئی کی لائف لائن یعنی لوکل ٹرینوں کی سروسز بھی متاثر ہوئی ہیں۔ ریلوے ذرائع کے مطابق سینٹرل ریلوے کی گاڑیاں پٹریوں پر پانی آنے کی وجہ سے رک گئی ہیں۔ ویسٹرن ریلوے کی گاڑیاں آدھا گھنٹہ تاخیر سے چل رہی ہیں۔

ممبئی میں جگہ جگہ پانی بھرنے کی وجہ سے شہر کے کئی سکولوں اور کالجوں نے چھٹی کا اعلان کر دیا۔ ایئر پورٹ حکام کے مطابق موسلا دھار بارش کی وجہ سے ہوائی پروازوں پر بھی اثر ہوا ہے۔ آسمان میں ابر کی وجہ سے پروازوں میں تاخیر ہو رہی ہے۔

ممبئی اور اس کے مضافات میں بدھ کی رات سے ہونے والی بارش کی وجہ سے سکولوں نے چھٹی کا اعلان کر دیا ہے۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں قلابہ میں104 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہوئی جبکہ ممبئی کے مضافات سانتا کروز میں 86.6 ملی میٹر بارش ہوئی۔ محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ اڑتالیس گھنٹوں میں اسی طرح موسلا دھار بارش ہونے کے امکانات ہیں۔

محمکہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ممبئی کے علاوہ یہ بارش اب گوا اور کوکن کے ساحلوں تک پہنچے گی جہاں گھن گرج اور طوفانی ہواؤں کے ساتھ بارش ہونے کا امکان ہے۔

میونسپل کارپوریشن میں محکمۂ صحت کے ایک افسر کے مطابق بارش سے پھیلنے والی وبائی بیماریوں کی وجہ سے اب تک 86 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز چار افراد کی موت واقع ہوئی ان میں ایک لیپٹوپائریسیس، دو کم سن بچے وائرل بخار اور ایک عورت کی ملیریا کی وجہ سے موت واقع ہوئی۔

دارالحکومت دلی میں بھی کچھ وقفے کے بعد جمعرات کو زبردست بارش ہوئی اور جمعہ کو بھی رک رک کر بارش ہوتی رہی۔ جمعرات کو دلی کے بیشتر علاقوں میں پانی بھر گیا اور ٹریفک کا پورا نظام درہم برہم رہا۔

راجستھان میں تباہی
سیلابی پانی سے سوافراد اور 50ہزار جانور ہلاک
بہاربہار، آفت کا شکار
ایک جانب سیلاب تو دوسری طرف خشک سالی
بارش اور گرمی
گرمی سے بچیں یا سیلاب سے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد