BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 August, 2007, 22:31 GMT 03:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشتی الٹنے سے اٹھائیس ہلاک
سیلاب
مشرقی ریاستوں میں سیلاب کے سبب لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں
ریاست اترپردیش میں پولیس کا کہنا ہے کہ روہن دریا میں ایک کشتی کے غرقاب ہونے سے کم از کم اٹھائیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب سیلاب سے متاثرہ افراد اور امدادی کارکنوں سے بھری ایک کشتی مہاراج گنج ضلع کے ہارک پورگاؤں کے نزدیک دریا میں الٹ گئی۔

پولیس کے مطابق اس حادثے میں ڈوبنے والے اٹھائیس افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ سات افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ حکام کے مطابق مرنے والوں میں زیادہ تر عورتیں اور بچے شامل ہیں جبکہ کشتی کے چالیس مسافروں کو پی اے سی کے جوانوں نے بچا لیا ہے۔

ہندوستان کی مشرقی ریاستوں میں سیلاب اور مون سون کی زبردست بارش کے سبب لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ مشرقی اترپردیش کے کئی اضلاع میں مسلسل بارش سے بہت سے علاقے زیر آب آ گئے ہيں جبکہ شمال مشرقی ریاست آسام میں حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب اور بارش کی تباہی سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے فوج کی مدد لی جا رہی ہے۔ ریاست کے وزیراعلی ترون گوگئی نے بتایا کہ فوج ہیلی کاپٹر کے ذریعہ کھانے پینے کا سامان متاثرہ دیہات میں پہنچا رہی ہے۔

پٹنہ سے مقامی نامہ نگار ایس ایم احمد کا کہنا ہےکہ بہار میں سیلاب کی صورت حال نہایت نازک ہے اور ریاست میں سیلاب زدہ ایک درجن سے زائد اضلاع کے ساٹھ لاکھ افرادگزشتہ دو ہفتوں سے مصیبت اور مایوسی کا شکار ہیں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں علاج معالجہ کی سہولت کی عدم دستیابی بھی لوگوں کی پریشانی میں اضافہ کر رہی ہے۔

آفات سے نمٹنے والے محکمے کے پرنسپل سیکرٹری نے بتایا ہے کہ گزشتہ ہفتے تک متاثرہ افراد کی تعداد گیارہ لاکھ تھی لیکن اب یہ تعداد ساٹھ لاکھ سے اوپر ہو چکی ہے۔ اس محکمے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ گوپال گنج، مظفرپور، بھاگلپور، سیتامڑھی، سہرسہ، مشرقی و مغربی چمپارن، دربھنگہ، مدھوبنی، سمستی پور، سوپول اور پٹنہ ضلع کے تقریباً دو لاکھ لوگ سیلاب کی وجہ سے بے گھر ہو گئے ہیں۔

سیلاب کی وجہ سے شمالی بہار میں قومی شاہراہوں اور ریل ٹریک پر ٹریفک تقریباً معطل ہے۔ دربھنگہ جیسے اہم شہر کا ریل اور قومی شاہراہ سے رابطہ بدھ کو بھی منقطع تھا۔ سمستی پور سے موتیہاری کے راستے دلی جانے والی ٹرینوں کا روٹ بدھ کے روز بھی بدلا رہا جبکہ مظفرپور، موتیہاری اور بگہہ شہر کے باہری علاقوں میں سیلاب کا پانی جمع ہونے سے شہر کے لوگ بھی تشویش میں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد