بہار: سیلاب میں ہلاکتوں کا خدشہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار میں دس دنوں سے جاری بارش کی وجہ سے سیلاب کی حالت سنگین ہوتی جا رہی ہے اور اب ہلاکتوں کی اطلاعات آنے لگی ہیں۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ایسے وقت میں ماریشس کے دورے پر روانگی کو حزب اختلاف نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ منگل کو بھاگلپور ضلع کے سبور بلاک کے لیلکھ ریلوے اسٹیشن کے پاس دریائے گنگا کی شاخ گھوگھا ندی میں کشتی کے ڈوب جانے سے قریب تیس لوگ ڈوب گئے تھے۔ ڈوبنے والے آٹھ لوگوں کو زندہ بچانے میں کامیابی ہوئی ہے۔ اب تک دو لاشیں ملی ہيں لیکن چوبیس گھنٹے کے بعد بھی بقیہ بیس لوگوں کا پتہ نہیں چل پایا ہے۔ بھاگل پور کے ضلع میجسٹریٹ وپن کمار کے مطابق ڈوبنے والے لوگوں کی تلاش کے لیے پینتیس غوطہ خوروں کی خدمات لی گئی ہیں۔ ریاست کے دوسرے اضلاع سے بھی لوگوں کے ڈوبنے کے سبب ہلاکتوں کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ ہلاکتوں کی زیادہ تر خبریں ان علاقوں سے آ رہی ہیں جہاں ندیوں پر پل نہیں ہیں اور لوگ مجبورا ً کشتی سے سفر کرتے ہیں۔ بیشتر مقامات پرگنجائش سے زیادہ لوگوں کے سوار ہونے کے سبب کشتیاں ڈوب جاتی ہیں۔ دارالحکومت پٹنہ میں دو دنوں میں دو بچے شہر میں جمع پانی میں ڈوب کر ہلاک ہو گۓ ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے پٹنہ کے قریب بہنے والی پن پن ندی کا پشتہ ٹوٹ گیا ہے جس سے کئی گاؤں غرقاب ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ چمپارن، سمستی پور، سیتامڑھی اور سوپول ضلع سے بھی پشتوں کے کمزرو پڑنے یا ٹوٹنے کی اطلاع ملی ہے۔ سیلاب کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں خوراک کی قلت ہو گئی ہے اور ان اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہو گیا ہے۔ ریاست کے ایک وزیر مسٹر اجیت سنگھ کے مطابق متاثرہ لوگوں کے درمیان پلاسٹک کی شیٹیں وغیرہ تقسیم کی جا رہی ہیں۔ دریس اثناء وزیر اعلیٰ نتیش کمار ماریشس کے ثقافتی دورے کے لیے دلی روانہ ہو گئے ہیں۔ حزب اختلاف آر جے ڈی نے بدھ کی صبح سیلاب زدگان کی خبر نہ لینے کا الزام عائد کرتے ہوئے نتیش کمار کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرہ کر رہے آر جے ڈی کے رہنما شیام رجک کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی وزیر اعلیٰ کے دورے کے خلاف نہیں لیکن بقول مسٹر رجک ’جب ریاست کے لاکھوں لوگ سیلاب زدہ ہیں، وزیر اعلیٰ کا ریاست سے باہر جانا مناسب نہیں۔‘ دوسری جانب ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی نے کہا ہے کہ نتیش کمار ماریشس سیر سپاٹے کے لیے نہیں بہار کے ثقافتی تعلق کو مضبوط کرنے جا رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں شدید بارشوں سے 45 افراد ہلاک23 June, 2007 | انڈیا بھارت:بارشیں جاری،80 سےزائد ہلاک24 June, 2007 | انڈیا بہار، سردی سے سو لوگ ہلاک06 January, 2007 | انڈیا مہاراشٹر میں بارش کا قہر جاری 06 August, 2006 | انڈیا ممبئی میں شدید بارش، زندگی مفلوج30 June, 2007 | انڈیا ہندوستان میں جان لیوا بارشیں08 August, 2006 | انڈیا بارش: بڑے پیمانے پر تباہی07 August, 2006 | انڈیا بہار: پُل گرنے سے بتیس افراد ہلاک02 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||