بہار: پُل گرنے سے بتیس افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار کے شہر بھاگلپور میں ہاوڑہ سے آ رہی ایک ٹرین پر سنیچر کی صبح ایک 140 سال پرانے پُل گر نے سے بتیس سے زيادہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ جس وقت یہ پل گرا اس وقت اس کے نیچے سے جمال پور ہاوڑہ ایکسپرس ٹرین گزر رہی تھی۔ پل کے گرنے سے ٹرین کا ایک ڈبہ بری طرح متاثر ہوگیا۔ مقامی پارلیمانی رکن شاہنواز حسین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حادثے ميں مرنے والوں کی تعداد 35 ہے۔ اب تک ملی اطلاعات کے مطابق ملبے میں ابھی کئی لوگ دبے ہوئے ہیں اور اب تک 32 لاشيں نکالی جا چکی ہیں۔ زخمی ہونے والے پندرہ افراد کو نزدیکی اسپتال ميں داخل کروا دیا گیا ہے۔ دوسری جانب ریلوے بورڈ کے چیئر مین جے پی بترا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پل توڑنے ميں لاہرواہی برتنے کی وجہ سے یہ ٹرین حادثہ پیش آيا ہے۔ یہ پل انگریزوں کے زمانہ کا تھا اور اسے توڑ کر ہٹانے کا کام جاری تھی ۔ ریلوے کے وزیر لالو پرساد اس وقت کٹیہار ضلع کے منیہاری اسمبلی حلقے میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے سلسلے میں اسی علاقے میں ہیں۔انہوں نے حادثہ کی جانچ اور اس کے لۓ ذمہ دار لوگوں کے خلاف کارروائی کاحکم دیا ہے۔ ٹرین پر پل گرنے کے بعد کافی تعداد میں لوگ جمع ہو گۓ اور وہ اس بات پر کافی غصے میں ہیں کہ خطرناک ہونے کے باوجود اسے توڑنے میں لاپرواہی برتی گئی۔ اس حادثہ کے بعد اس روٹ پر ٹرینوں کی آمد و رفت بند ہے۔ ریلوے کی ریلیف ٹرین روانہ کر دی گئی ہے۔ ریلوے کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حادثہ کا شکار بوگی سلیپر تھی مگر اس میں موجود کسی سوار کے پاس ریزرویشن ٹکٹ نہیں تھا۔ بہار کے مختلف علاقوں میں ریلوے کے پل اب بھی انگریزوں کے زمانے کے ہیں۔ اکثر کی حالت خراب بتائی جاتی ہے اور لوگ حادثے کے خطرے کا اندیشہ ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ | اسی بارے میں بھارت: ٹرین حادثہ، 111 ہلاک30 October, 2005 | انڈیا بھارت: ٹرین حادثہ، 100 ہلاک29 October, 2005 | انڈیا ٹرین حادثہ، درجنوں ہلاکتوں کا خدشہ29 October, 2005 | انڈیا ٹرین دھماکہ: آٹھ افراد ہلاک20 November, 2006 | انڈیا ٹرینوں میں تصادم، سترہ ہلاک21 April, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||