BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 August, 2007, 11:14 GMT 16:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیلاب: ہلاکتیں اور سیاست

ہلاک ہونے والوں کے بارے میں سرکاری اعداوشمار بہت کم ہیں
بہار میں تین ہفتوں کی بارش اور سیلاب سے قریب چودہ اضلاع اور تقریباً ستر لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق سیلاب میں ڈوبنے اور طبی سہولیات کی عدم دستیابی سے کم از کم ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن سرکاری اعدادو شمار کے مطابق سیلاب سے بدھ تک مرنے والوں کی تعداد محض چوبیس تھی۔

ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی کے مطابق ’غیر متوقع‘ سیلاب کی وجہ سے ستر لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں اور بعض علاقوں میں حالات سنگین ہیں۔

سیلاب زدگان کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’سنگھرش یاترا‘ کے سربراہ ششی شیکھر کہتے ہیں کہ سیلاب زدہ علاقوں سے ہر روز ندیوں میں ڈوبنے اور بیماری سے دس بارہ لوگوں کی موت واقع ہو رہی ہے اور گزشتہ پندرہ دنوں میں مجموعی طور پر ڈیڑھ سو سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔

ریاست کے قدرتی آفات انتظامیہ کے محکمے کے پرنسپل سیکریٹری منوج کمار شریواستو حکومت کی پالیسی کے مطابق سیلاب میں ڈوبنے والوں کی لاش اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کی بنیاد پر سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد متعین کی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے سرکاری طور پر سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد چوبیس ہے۔

سیلاب سے دربھنگہ کے شہری علاقے میں بدھ کو کشتیاں چلائی جا رہی تھیں۔ مقامی ریڈیو اسٹیشن کے علاوہ آئی جی کے بنگلہ اور یونیورسٹی کیمپس میں ندیوں کا پانی بھر گیا ہے۔

حکام کے مطابق دربھنگہ میں امدادی کاموں کے لیے ’ریزڈ پلیٹ فارم‘ پر ہیلی کاپٹر اتار کر ضروری اشیاء پہنچانے کی تیاری چل رہی ہے۔ دوسری جانب مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ’ریزڈ پلیٹ فارم‘ بھی اس لائق نہیں ہے کہ وہاں ہیلی کاپٹر اتارا جا سکے۔

سیلاب سے متاثرہ سیتامڑھی، سمستی پور، مشرقی اور مغربی چمپارن، مدھوبنی، سہرسہ، گوپل گنج جیسے اضلاع کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا اپنا ضلع نالندہ بھی متاثر ہوا ہے۔

سیلاب زدہ علاقوں سے موصولہ خبروں کے مطابق متاثرہ افراد کو اشیائے خورد و نوش کی قلت کے ساتھ علاج و معالجہ میں بھی بڑی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ان علاقوں میں کھانا بنانے کی قلت بنی ہوئی ہے۔ لاش اور چولہا جلانے کے لیے سوکھی لکڑی نہیں مل رہی ہے۔ لاشوں کو دفن کرنے کے لیے خشک زمین ملنا بھی مشکل ہے۔

آفات انتظامیہ کے محکمے کی رپورٹ کے مطابق سیلاب سے قریب پانچ لاکھ ہیکٹر زمین میں چھ کروڑ سے زائد روپے کی فصلیں برباد ہوئی ہیں۔ محکمے کا دعوی ہے کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں سترہ سو سرکاری کشتیاں چلائی جا رہی ہیں لیکن متاثرہ افراد کی شکایت ہے کہ انہیں مصیبت کی اس گھڑی میں بھی پرائویٹ کشتیوں پر کافی پیسے خرچ کر کے محفوظ مقام تک پہچنے کے لیے مجبور ہوناپڑا ہے۔

ریلوے کے وزیر لالو پرساد کا کہنا ہے کہ کشتی چلانے والوں کو حکومت نے گزشتہ سال کی اجرت ادا نہیں کی ہے اس لیے بہت سے کشتی کے مالک اپنی کشتی چلانے کو راضی نہیں ہو رہے۔

دوسری جانب نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی کہتے ہیں کہ سیلاب زدہ علاقوں میں راحت کاری کے لیۓ بیالیس کروڑ روپے جاری کیۓ گئے ہیں اور کشتی کے مالکوں کو بازار کے نرخ سے کرایہ دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ان کے مطابق کشتی چلانے والوں کی اجرت ستر روپے روزانہ سے بڑھا کر ایک سو دو روپے کر دی گئی ہے۔

لالو پرساد نے سیلاب زدہ علاقوں کا ہوائی معائنہ کرنے کے بعد کہا کہ بے شمار افراد سیلاب سے بچنے کے لیے ریلوے لائنوں اور پشتوں پر پناہ لیے ہوئے ہیں لیکن ان کی مدد کا کوئی نظم نظر نہیں آتا۔

لالو پرساد کے الزامات کے جواب میں سشیل کمار مودی نے انہیں سیلاب پر سیاست نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے لالو پرساد کی پارٹی کے دور حکومت میں پشتے بنانے کا کام نہیں ہوا جسکی وجہ سے سیلاب کا مسئلہ سنگین بنا ہے۔ بقول مسٹر مودی ان کی حکومت نے ڈیڑھ سال میں چوالیس کلومیٹر پشتے کی تعمیر کرائی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد