BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہار میں جمہوریت کی تربیت

بہار طالبِ علم
’طلبہ کی حکومتیں‘پانچ ہزار سکولوں میں کام کر رہی ہے
بہار کے ستّر ہزار سرکاری پرائمری سکولوں میں آج کل جمہوریت کی عملی تعلیم کا سلسلہ جاری ہے۔

ریاستی حکومت کے بہار ایجوکیشن پروجیکٹ اور بچوں کے عالمی ادارہ یونیسیف کے ذریعہ مشترکہ طور پر یہ کوشش ہو رہی ہے کہ مذکورہ سکولوں میں ’بال سنسد‘ یعنی ’طلبہ کی حکومت‘ بنائی جائے۔

ریاست کے وزیر تعلیم وریشن پٹیل کے مطابق بچوں کی یہ پارلیمان سکولوں میں تعلیم اور ترقی کے معاملوں میں مدد دے گی۔ بقول مسٹر پٹیل ’اس طرح سکول اور بچوں میں قربت بڑھے گی۔

یونیسف کے اہلکار جوب ذکریہ نے بی بی سی کو بتایا کہ فی الوقت پانچ ہزار سکولوں میں ’طلبہ کی حکومت‘ کام کر رہی ہے۔ان کے مطابق یہ نظام ابھی نالندہ اور ویشالی کے زیادہ تر سکولوں میں نافذ کیا گیا ہے۔

’طلبہ کی حکومت‘ بارہ وزیروں پر مشتمل ہوتی ہے اور ان کا انتخاب بھی بچے کرتے ہیں۔ ان میں وزیراعظم کے علاوہ ایک ڈپٹی وزیراعظم، پانچ پانچ وزیر اور نائب وزیر شامل ہوتے ہیں۔ اس حکومت میں تعلیم، صحت و صفائی، آبی وسائل و زراعت، سائنس و لائبریری اور ثقافت و کھیل کا شعبہ ہوتا ہے۔

جوب ذکریہ کے مطابق یہ حکومت بچوں کی اسمبلی کو جوابدہ ہوتی ہے۔ اس کابینہ کا اجلاس ہر ماہ ہوتا ہے اور اسے ہر تیسرے مہینے اسمبلی کو اپنی رپورٹ پیش کرنی ہوتی ہے۔

’ماسٹر ٹرینر‘ مقرر کیے جا رہے ہیں
 ’بچوں کی حکومت‘ کو مؤثر بنانے کے لیے ’ماسٹر ٹرینر‘ بھی مقرر کیے جا رہے ہیں جو بچوں کو حکومت چلانے کی تربیت دیں گے
جوب ذکریہ

’بچوں کی حکومت‘ کو مؤثر بنانے کے لیے ’ماسٹر ٹرینر‘ بھی مقرر کیے جا رہے ہیں جو بچوں کو حکومت چلانے کی تربیت دیں گے۔ کچھ ’ماسٹر ٹیرنرز‘ کے لیے تربیتی پروگرام بھی منعقد کیے گئے ہیں۔

تربیتی پروگرام میں آنے والی ویشالی ماڈل مڈل سکول کی وزیراعظم شہناز بانو نے بتایا کہ وہ اپنے وزراء سے پندرہ روزہ مشورہ کرتی ہیں۔ شہناز بانو نے مقامی مکھیا سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ ان کے سکول کی چاردیواری تعمیر کرا دیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ بچوں کی حکومت کو محض فرضی پارلیمان نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق آٹھویں درجہ تک کے سکولوں میں نافذ العمل اس پروگرام میں کوئی انتخاب جماعتی بنیاد پر نہیں ہوتا۔

یونیسیف کے اہلکار کے مطابق تعلیم کے لیے بچوں کے حق کے کنونشن میں یہ بات شامل ہے کہ سکول چلانے میں طلبہ کی شراکت بھی ہونی چاہیے۔ ’یہ پروگرام اسی شراکت کو یقینی بنانے کے لیے اپنایا گیا ہے‘۔

اسی بارے میں
بہار کا معذور گاؤں
09 December, 2004 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد