BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 June, 2007, 07:20 GMT 12:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دیہاتی شراب خانے، حکومت پر تنقید

شراب
بہار میں فی الوقت شراب کی تقریباً تین ہزار دکانیں ہیں
بہار کی حکومت کی جانب سے دیہی علاقوں میں شراب کی دکانیں کھولنے کی پالیسی پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے اور نشہ محالف حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت لوگوں کو ’شرابی‘ بنانے پر آمادہ ہے۔

ریاستی حکومت نےگزشتہ دنوں اپنی نئی شراب پالیسی کے تحت یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ہر پنچایت میں بدیسی شراب کی دوکان کھولے گی۔ حکومت کا خیال ہے کہ اس پالیسی سے شراب کے لائسنس سے ہونے والی سالانہ آمدنی چار سو کروڑ روپے سے بڑھ کر سات سو کروڑ روپے ہو جائےگی۔

ریاستی محکمہ آبکاری کے سیکرٹری عامر سبحانی کے مطابق ریاست میں فی الوقت شراب کی تقریباً تین ہزار دکانیں ہیں۔ ان کے مطابق نئی پالیسی نافذ ہونے کے بعد ان کی تعداد چھ ہزار سے زائد ہو جائے گی۔

واضح رہے کہ بہار میں ملک کے دوسرے حصوں کی طرح شراب کی دکانیں حکومت کے ذریعہ ہی چلائی جاتی ہیں۔ ریاست میں اب تک غیر ملکی شراب (جسے عام طور پر انگلش شراب کہا جاتا ہے) کی دکانیں شہری علاقوں تک محدود تھیں لیکن اب حکومت ایسی دوکانوں کو دیہی علاقوں میں کھولنے کے لائسنس دے رہی ہے۔

حکومت کی اس پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے ریاست کے بزرگ گاندھی نواز سکالر اورگاندھی میوزیم کے سیکرٹری رضی احمد کہتے ہیں کہ حکومت اپنی آمدنی میں اضافے کے لیے بےحد غلط راستہ اپنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی جی کے تین بندروں کے سبق کو الٹا کرتے ہوئے حکومت برا سننے، برا دیکھنے اور برا کہنے اور کرنے میں لگی ہے۔

سابق وزیر اور گاندھی نواز لیڈر سشیلا سہائے نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو خط لکھ کر کہا ہے کہ بہار حکومت سابق وزیرِاعلٰی کرپوری ٹھاکر کی شراب بندی کی پالیسی اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

آل انڈیا پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سیکرٹری مولانا سید نظام الدین نے اس پالیسی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مہاتما گاندھی کی تعلیمات کے خلاف ہے اور اس طرح کی پالیسی سے بالواسطہ طور پر عورتوں کے خلاف ظلم میں مزید اضافہ ہوگا۔

شراب نوشی کو فروغ دینے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے آبکاری کی وزیر سدھا شریواستو کہتی ہیں کہ حکومت چاہتی ہے کہ جو لوگ شراب پینا چاہتے ہیں انہیں نقلی اور زہریلی شراب سے بچایا جائے۔ واضح رہے کہ بہار میں زہریلی شراب پینے سے ہر سال سینکڑوں افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔

اسی بارے میں
کشمیر:شراب کے خلاف مہم
01 September, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد