بنگلور: ’ریو‘پارٹی کا بڑھتا رجحان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے جنوبی شہر بنگلور میں ریاستی حکومت نے دیر رات تک چلنے والی پارٹیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حکومتی احکامات کے مطابق بنگور میں رات ساڑھے گیارہ بجے کے بعد پارٹی کرنے پر پابندی ہے۔ یہ پابندی ڈسکوز سمیت میڈیا اور فیشن شوز کی کسی بھی طرح کی تقریب پر لگائی گئی ہے۔ تاہم پارٹی کے دیوانوں نے ’ریو پارٹی‘ کی شکل میں ایک نیا راستہ نکال لیا ہے۔اب وہ نجی مکانات اور فارم ہاؤسز میں اپنی محفلیں سجاتے ہیں اور رات کی زندگی میں ہر طرح کے رنگ بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حکومت کے اس فیصلے سے تفریح پسند کرنے والے نوجوانوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ سنیل ایک فیشن ڈیزائنر ہیں، ان کا کہنا ہے کہ بنگلور کی زندگی میں کافی موج مستی ہے لیکن ساڑھے گیارہ بجے تک کی پابندی سے لوگ پریشان ہیں کیونکہ لوگ کام سے واپس لوٹنے کے بعد پارٹی میں آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پابندی کے سبب پارٹی کا سماں بدل گیا ہے۔ امیت اروڑہ ایک ایوینٹ مینجمنٹ کمپنی چلاتے ہیں۔ وہ حکومت کے اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پابندی سے ان کے کاروبار کو کافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ پولیس کورشوت چاہیے، انہیں ابتداء میں خاطر خواہ رشوت نہیں دی، اس لیے انہوں نے یہ پابندی لگائی ہے۔
کالج کی طالبہ پریتی بوہرا جو ہمیشہ اس طرح کی پارٹیوں ميں شریک ہوتی ہیں اس پابندی سے ناخوش ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ رات کی زندگی دلکش ہوتی ہے اور ایک مقررہ وقت کے بعد پابندی لگا نے سے تفریح کا مزہ جاتا رہتا ہے۔ ان کے مطابق پارٹی پر پابندی کے سبب ریو پارٹیاں ایک متبادل کے طور پر بنگلور کے مضافات میں مقبول ہورہی ہیں۔ پریتی کا کہنا ہے: ’پارٹی پر ساڑھے گیارہ بجے تک کی حد مقرر ہونے کی وجہ سے ہم لوگ دوستوں کا گروپ بناتے ہیں اور ایک ساتھ جمع ہوکر کسی کے گھر اور فارم ہاؤسز پر پارٹی کرتے ہیں‘۔ 1960 میں لندن میں کریبین نژاد باشندوں نے اپنی تقریبات کو ’ریو پارٹی‘ کا نام دیا تھا ۔ 80 کے عشرے میں صحافیوں نے پارٹی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے ڈی جی گّورو پارٹی کے ماحول کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ریو پارٹی ایک ایسی پارٹی ہے جہاں موج مستی کا سماں ہوتا ہے اور نوجوان بہترین موسیقی کا لطف لیتے ہیں۔ نیشانت جنہیں کئی پارٹیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریو پارٹی شہر کے مضافات میں کی جاتی ہے کیونکہ وہاں پولیس کا ڈر نہیں رہتا اور من چاہی منشیات بھی آسانی سے مل جاتی ہے۔
سنیئر پولیس اہلکار بیپن کرشنن بنگلور کے مضافات میں ہونے والی ریو پارٹیوں سے انکار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ساڑھے گیارہ بجے کے بعد پارٹی پر پابندی اس لیے لگائی گئی ہے کیونکہ اس سے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو ڈیسکوز جانے سے روکا جاسکے۔ یہ اخلاقیات کامعاملہ نہیں ہے بلکہ شراب پینے سے ہونے والے حادثات کو روکنے کی کوشش ہے۔ پولیس کے ضوابط اپنی جگہ لیکن ریو پارٹی میں شریک ہونا کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔شریا اڈوانی کا کہنا ہےکہ اگر آپ کے پاس تھوڑے پیسے ہوں اور پیشہ ور کیمرا اور مائیکروں فون نہیں، تو آپ کا ان پارٹیوں میں خیر مقدم ہے۔ حال میں ہی مہاراشٹرا کے شہر پونے میں ایک ریو پارٹی کے دوران منشیات کے استعمال کے جرم میں پولیس نے ڈھائی سو سے زائد نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا۔ ٹیسٹ سے پتہ چلا کہ ان میں اکثر نوجوانوں نے منشیات کا استعمال کیا تھا۔ گرفتار افراد میں اکثر کا تعلق بنگلور سے تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ پونے کے واقعہ کے بعد ریو پارٹی کرنے والے ہوشیار ہوگئے ہوں گے لیکن انہوں نے اس طرح کی پارٹیاں منعقد کرنا چھوڑ دیا ہوگا، ایسا ممکن نہیں ہے۔ لیکن مشکلات کے باوجود اب نجی مکانوں اور فارم ہاؤسز میں ہونے والی تقریبات نے نوجوانوں کے لیے موج مستی کی ایک نئی راہ کھول دی ہے۔ |
اسی بارے میں ڈانس بار پر پابندی کے لیے بل منظور 22 July, 2005 | انڈیا رقص، لڑکیوں اور شراب کا میل بند 31 March, 2005 | انڈیا ڈانس بار گرلز خود کشی کرنے پر مجبور 08 September, 2005 | انڈیا ڈانس بار فی الحال بند رہیں:عدالت10 May, 2006 | انڈیا رقص و موسیقی کے نئے نئے ریکارڈز29 December, 2006 | انڈیا دلّی میں دنیا کا سب سے لمبا ناچ12 July, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||