BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 August, 2007, 11:34 GMT 16:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیلاب کم لیکن امداد میں مشکلات
جنوبی ایشیا سیلاب
انڈین ریاست بہار سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے
جنوبی ایشاء میں گزشتہ دو ہفتوں میں سیلاب سے متاثر ہونے والے لاکھوں افراد کو خوراک اور پانی پہنچانے میں امدادی کارکنوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

شمالی بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال میں سیلاب سے مجموعی طور پر دو کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں اور ان میں سے بیشتر کوانتہائی نامساعد حالات کا سامنا ہے۔

بھارت کی سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاست بہار میں ہیلی کاپٹروں سے گرائی جانے والی خوراک پر جھگڑے ہوئے ہیں۔ بہار میں تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے خوراک کے عالمی پروگرام کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں بہت بڑی آبادی کو امداد کی شدید ضرورت ہے۔

اگرچہ بھارت کے کچھ شمالی دریاؤں میں پانی کی سطح گر رہی ہے اور ارد گرد سےسیلابی پانی دریاؤں کی جانب واپس جا رہا ہے، لیکن ان علاقوں میں اب تک کم سے کم دو سو چالیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

کھلے آسمان تلے سونے پر مجبور

انڈین ریاست بہار کے آفات سے نمٹنے کے محکمے کے سربراہ منوج سری واستوا نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ چھ ہزار سے زیادہ دیہات میں سیلاب آیا ہے جس میں ایک کروڑ پانچ لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے بیس لاکھ اپنے گھروں سے باہر رہنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

حکام کو خدشہ ہے کہ جوں جوں پانی ہٹے گا بیماریاں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا

اطلاعات ہیں کہ کئی دیہاتوں میں امدادی اداروں کی جانب دیے جانے والے خوراک کے پیکٹوں کے حصول کے دوران جھگڑوں اور مار پیٹ کے واقعات ہوئے ہیں۔ اسکے علاوہ خوراک لوٹنے کی بھی اطلاعات ہیں۔

مشرقی بہار میں ایک شخص کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ خوراک کے پیکٹ کو پکڑنے کی کوشش میں سیلابی پانی میں ڈوب کر ہلاک ہو گیا۔

منوج سری واستوو نے بتایا کہ خوراک پر فسادات سے بچنے کی غرض سے کھانے پینے کی اشیاء ہیلی کاپٹروں سے پھینکی جا رہی ہیں۔

کئی دیہاتوں کو کئی دنوں سے خوراک میسر نہیں ہے تاہم دوسری جانب امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ جب سے سیلاب شروع ہوئے ہیں وہ چین سے نہیں بیٹھے۔

بہار کے مشرقی ضلع چمپارن کے ایک رہائشی بھگوان مانجھی نے ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں اور ہم گھونگے کھا کر زندہ ہیں۔‘

بنگلہ دیش کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں اقوام متحدہ کا ادارہ خوراک تقسیم کر رہا ہے
اس دوران ریاست بہار اور نیپال کے درمیان اس بات پر تنازعہ جاری ہے کہ سیلاب کا ذمہ دار کون ہے۔ بہار میں حکام الزام لگاتے ہیں کہ سیلاب کی وجہ یہ ہے کہ نیپال نے ہمالیہ سے آتے دریاؤں پر بند نہیں بنائے، لیکن نیپال کے ایک رکن اسمبلی، پُرنا کماری سبیدی، کا کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ انڈیا میں لکشمن پور میں تعمیر کیا جانے والا ڈیم ہے۔ اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے رکن اسمبلی کا کہنا تھا انڈیا کو چاہیے کہ وہ اس ڈیم کو تباہ کر دے۔

بہار میں حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ عمومی طور بارشوں میں کمی آ گئی ہے لیکن نیپال سے آتے ہوئے پانی کی سطح کم ہونے میں وقت لگے گا۔

سکھ کا سانس
انڈین ریاست آسام اور ارد گرد کے علاقوں میں بھی اگرچہ سیلابی پانی کی سطح میں کمی ہو رہی ہے لیکن حکام کو خدشہ ہے کہ جوں جوں پانی کم ہوگا اور درجہ یرارت میں اضافہ ہو گا بیماریاں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

تاہم اترپردیش کی حکومت نے کہا ہے کہ انہیں صورتحال جلد ہی بہتر ہونے کی توقع ہے۔

ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے سنٹرل واٹر کمیشن کے ترجمان مہندرا اواستھی نے کہا ’ تین دریاؤں، گنگا، راپتی اور گندک میں پانی کی سطح گرنا شروع ہو گئی ہے جبکہ دیگر دریاؤں میں بھی پانی کی سطح کم ہو رہی یا جوں کی توں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ رجحان جاری رہتا ہے تو سیلاب میں پھنسے لاکھوں لوگ سکھ کا سانس لے سکیں گے۔

انڈین ریاست اڑیسہ میں حکام کا کہنا ہے کہ دسیوں ہزار لوگ ابھی تک گھروں سے باہر پڑے ہیں۔

بنگلہ دیش کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں اقوام متحدہ کا ادارہ خوراک تقسیم کر رہا ہے۔

ادارے کا اندازہ ہے کہ ملک میں دس لاکھ لوگ سیلاب سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں جن میں سے کچھ ایسے ہیں جنہیں فوری امداد کی ضرورت ہے۔

نیپال میں سیلابی علاقوں میں کئی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ گئی ہیں اور پُل بہہ گئے ہیں۔ امدادی اداروں اور حکومت کو متاثرین تک امداد پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

سیلاب کیا ہوا
لال مسجد کےریلے میں سیلاب بہہ گیا
اسی بارے میں
سیلاب کی فتح
02 August, 2004 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد