سیلاب کم لیکن امداد میں مشکلات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ایشاء میں گزشتہ دو ہفتوں میں سیلاب سے متاثر ہونے والے لاکھوں افراد کو خوراک اور پانی پہنچانے میں امدادی کارکنوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شمالی بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال میں سیلاب سے مجموعی طور پر دو کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں اور ان میں سے بیشتر کوانتہائی نامساعد حالات کا سامنا ہے۔ بھارت کی سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاست بہار میں ہیلی کاپٹروں سے گرائی جانے والی خوراک پر جھگڑے ہوئے ہیں۔ بہار میں تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے خوراک کے عالمی پروگرام کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں بہت بڑی آبادی کو امداد کی شدید ضرورت ہے۔ اگرچہ بھارت کے کچھ شمالی دریاؤں میں پانی کی سطح گر رہی ہے اور ارد گرد سےسیلابی پانی دریاؤں کی جانب واپس جا رہا ہے، لیکن ان علاقوں میں اب تک کم سے کم دو سو چالیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ کھلے آسمان تلے سونے پر مجبور انڈین ریاست بہار کے آفات سے نمٹنے کے محکمے کے سربراہ منوج سری واستوا نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ چھ ہزار سے زیادہ دیہات میں سیلاب آیا ہے جس میں ایک کروڑ پانچ لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے بیس لاکھ اپنے گھروں سے باہر رہنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ کئی دیہاتوں میں امدادی اداروں کی جانب دیے جانے والے خوراک کے پیکٹوں کے حصول کے دوران جھگڑوں اور مار پیٹ کے واقعات ہوئے ہیں۔ اسکے علاوہ خوراک لوٹنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ مشرقی بہار میں ایک شخص کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ خوراک کے پیکٹ کو پکڑنے کی کوشش میں سیلابی پانی میں ڈوب کر ہلاک ہو گیا۔ منوج سری واستوو نے بتایا کہ خوراک پر فسادات سے بچنے کی غرض سے کھانے پینے کی اشیاء ہیلی کاپٹروں سے پھینکی جا رہی ہیں۔ کئی دیہاتوں کو کئی دنوں سے خوراک میسر نہیں ہے تاہم دوسری جانب امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ جب سے سیلاب شروع ہوئے ہیں وہ چین سے نہیں بیٹھے۔ بہار کے مشرقی ضلع چمپارن کے ایک رہائشی بھگوان مانجھی نے ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں اور ہم گھونگے کھا کر زندہ ہیں۔‘
بہار میں حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ عمومی طور بارشوں میں کمی آ گئی ہے لیکن نیپال سے آتے ہوئے پانی کی سطح کم ہونے میں وقت لگے گا۔ سکھ کا سانس تاہم اترپردیش کی حکومت نے کہا ہے کہ انہیں صورتحال جلد ہی بہتر ہونے کی توقع ہے۔ ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے سنٹرل واٹر کمیشن کے ترجمان مہندرا اواستھی نے کہا ’ تین دریاؤں، گنگا، راپتی اور گندک میں پانی کی سطح گرنا شروع ہو گئی ہے جبکہ دیگر دریاؤں میں بھی پانی کی سطح کم ہو رہی یا جوں کی توں ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ رجحان جاری رہتا ہے تو سیلاب میں پھنسے لاکھوں لوگ سکھ کا سانس لے سکیں گے۔ انڈین ریاست اڑیسہ میں حکام کا کہنا ہے کہ دسیوں ہزار لوگ ابھی تک گھروں سے باہر پڑے ہیں۔ بنگلہ دیش کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں اقوام متحدہ کا ادارہ خوراک تقسیم کر رہا ہے۔ ادارے کا اندازہ ہے کہ ملک میں دس لاکھ لوگ سیلاب سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں جن میں سے کچھ ایسے ہیں جنہیں فوری امداد کی ضرورت ہے۔ نیپال میں سیلابی علاقوں میں کئی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ گئی ہیں اور پُل بہہ گئے ہیں۔ امدادی اداروں اور حکومت کو متاثرین تک امداد پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ |
اسی بارے میں سیلاب: کروڑوں امداد کے منتظر05 August, 2007 | آس پاس سیلاب کے بعد امدادی کارروائیاں 04 August, 2007 | آس پاس بہار سیلاب: ایک کروڑ افراد متاثر04 August, 2007 | انڈیا جنوبی ایشیا:سیلاب سےدو کروڑ بےگھر02 August, 2007 | آس پاس انڈیا: سیلاب سے بڑی تباہی، ہلاکتیں03 August, 2007 | آس پاس سیلاب کی فتح02 August, 2004 | آس پاس سیلاب سے دو کروڑ افراد بےگھر03 August, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: مدد کے لیے اپیل03 August, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||