’سیلاب لال مسجد کے طوفان میں بہہ گیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لال مسجد کے واقعے نے بلوچستان کے سیلاب اور بارشوں سے ہونے والی تباہی کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ بلوچستان میں حالیہ سیلاب اور بارشوں سے ہونے والے نقصان کو صدر پرویز مشرف اور صوبائی حکومت نے کشمیر اور صوبہ سرحد میں زلزلے سے ہونے والے نقصان کے برابر قرار دیا ہے ۔ آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کو آنے والے زلزلے کے حوالے سے ذرائع ابلاغ پر خبریں مہینوں تک چھائی رہیں اور بلوچستان میں سیلاب کی کوریج صرف دس دن تک رہی۔ بلوچستان رقبے کے حوالے سے پاکستان کا چوالیس فیصد حصہ ہے اور پچیس جون کے بعد طوفان پھر بارشیں اور سیلاب سے پندرہ اضلاع بری طرح متاثر ہوئے ہیں، جہاں ایک اندازے کے مطابق ڈیڑھ لاکھ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں، ہزاروں مکانات منہدم یا پانی میں بہہ گئے ہیں، فصلیں تباہ ہو گئی ہیں، مال داری ختم اور ٹیوب ویل نہیں رہے، کھلے آسمان تلے لوگ مدد مدد پکار رہے ہیں۔ وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف کے مطابق یہ اسی ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ صرف انہوں نےہی نہیں بلکہ فوجی حکام نے بھی کہا ہے کہ بلوچستان میں اگرچہ جانی نقصان کم ہوا ہو لیکن مالی اعتبار سے نقصان کشمیر اور سرحد کے زلزلے سے کم نہیں بلکہ زیادہ ہے۔ صدرجنرل پرویز مشرف نے بھی اسے بڑا نقصان قرار دیا لیکن بلوچستان میں دورہ تو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا کر رہے تھے لیکن جواب وہ لال مسجد کے بارے میں ہی دے رہے تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ لال مسجد والے اسلحہ پھینک دیں ورنہ مارے جائیں گے۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگ تاحال امداد کے منتظر ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ میڈیا کے ذریعے ہی ان کی آواز ارباب اختیار تک پہنچ سکتی ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ حکومت نے جان بوجھ کر لال مسجد کا ڈرامہ رچایا ہے تاکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں اور دیگر تحریکوں کو دبایا جا سکے۔ کوئٹہ میں عام لوگوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے لوگ تو لال مسجد کے واقعہ میں ڈوب گئے ہیں۔ بلوچوں اور پشتونوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سیلاب تو قدرتی آفت ہے کہیں بھی کسی وقت آسکتی ہے اس میں حکومت کا تو کوئی عمل دخل نہیں ہے لیکن ہاں یہ ضرور ہے کہ حکومت غافل رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق طوفان سے پہلے محکمہ موسمیات نے خبردار کر دیا تھا لیکن کوئی احتیاطی اقدمات نہیں کیے گئے اور اب بلوچستان کے لیے بین الاقوامی ڈونر کانفرنس طلب نہ کرنے سے یہی مطلب لیا جا سکتا ہے کہ حکومت نہیں چاہتی کہ بین الاقوامی امدادی تنظیمیں ان متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں۔ | اسی بارے میں سیلاب کے متاثرین، امداد کے منتظر07 July, 2007 | پاکستان بلوچستان میں ڈیڑھ لاکھ افراد بےگھر07 July, 2007 | پاکستان طوفان سے زلزلے جتنا نقصان: مشرف07 July, 2007 | پاکستان بلوچستان:امدادی کارروائیوں پر زور 08 July, 2007 | پاکستان بلوچستان سیلاب: 156 افراد ہلاک09 July, 2007 | پاکستان بند ٹوٹنے سے تیس دیہات زیرِ آب09 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||