BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 July, 2007, 17:10 GMT 22:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان سیلاب: 156 افراد ہلاک

بلوچستان سیلاب
متاثرہ علاقے سے لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے
بلوچستان میں حالیہ سیلاب اور بارشوں سے تاحال متضاد اطلاعات موصول ہو رہی ہیں صرف نال اور جاؤ کے علاقے سے ایک سو چوبیس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جبکہ حکومت نے کل ایک سو چھپن افراد کے ہلاک ہو نے کی تصدیق کی ہے۔

خضدار کی تحصیل نال سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ اب تک باسٹھ افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ سو کے لگ بھگ لوگ لاپتہ ہیں۔ نال سے دل مراد نامی شخص نے بتایا ہے کہ ان کے خاندان کے نو افراد سیلاب میں بہہ گئے ہیں جن میں سے اب تک صرف تین لاشیں نکالی گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سیلاب سے بچ کر آنے والے لوگوں نے بتایا ہے کہ موقع پر تیس افراد نے ایک جگہ پر ہاتھوں کی زنجیر بنا لی تھی اور کہا تھا کہ اگر مریں گے تو اکٹھے اور جییں گے تو ایک ساتھ۔ جب سیلابی ریلے آئے تو دو افراد سلیم اور حکیم کے ہاتھ چھوٹ گئے تھے جو بچ گئے باقی کل ملا کر باون افراد تھے جن میں سے سینتالیس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔

گل مراد نے بتایا کہ سیلابی ریلوں کے بارے میں اتنظامیہ نے انہیں کوئی اطلاع نہیں دی تھی تاکہ وہ محفوظ مقام پر منتقل ہوجاتے۔

ادھر آواران کے علاقے جاؤ سےرمضان نامی شخص نے بتایا ہے کہ پیر کو مزید چار لاشیں ملی ہیں اور اب تک کُل چونسٹھ لاشیں مل چکی ہیں۔ رمضان نے بتایا کہ جس مقام سے لاشیں ملی ہیں وہاں سے اب تک بو اٹھ رہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس علاقے میں مذید لاشیں موجود ہیں۔

دیگر ہلاکتوں کی اطلاعات
 پسنی، تربت، قلات، جھل مگسی، گندھاوا، نصیرآباد، بولان، مچھ، ہرنائی، قلعہ سیف اللہ، ژوب اور دیگر علاقوں سے سو سے زیادہ ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں

خضدار کے علاقے سے ہو کر نال کور (ندی) آواران کے علاقے جاؤ سے گزر کر ہنگول ندی میں جاتی ہے۔ جاؤ سے لوگوں نے بتایا ہے کہ جتنی لاشیں ملی ہیں ان تمام کا تعلق ان کے علاقے سے نہیں ہے۔

پسنی، تربت، قلات، جھل مگسی، گندھاوا، نصیرآباد، بولان، مچھ، ہرنائی، قلعہ سیف اللہ، ژوب اور دیگر علاقوں سے سو سے زیادہ ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں لیکن حکومت کی جانب سے صرف ایک سو چھپن افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد