BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 July, 2007, 18:23 GMT 23:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان:امدادی کارروائیوں پر زور

بلوچستان سیلاب
لوگ کھلے آسمان تلے پڑے ہوئےہیں
بلوچستان میں حالیہ سیلاب اور بارشوں سے تباہی کے بعد اب اقوام متحدہ اور نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کی چھ ٹیمیں سوموار سے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے نقصانات کے بارے میں رپورٹ مرتب کریں گی۔

اس کےعلاوہ غیر سرکاری تنظیم کے سربراہ نے کہا ہے کہ متاثرین کو امدادی اشیاء نہیں مل رہیں اور ان کے لیے حالات مزید ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔

کوئٹہ میں ریلیف کمشنر خدا بخش بلوچ نے بتایا ہے کہ صوبائی حکومت اپنے طور پر بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لے گی اور اس بارے میں مکمل رپورٹ تیار کرے گی۔

اس کےعلاوہ اقوام متحدہ اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹِی کی چھ ٹیمیں صوبے کے مختلف علاقوں کا دورہ کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ ان تجاویز کے بعد پھر ایک مرکزی ڈونر کانفرنس اسلام آباد میں اور دو کانفرنس بلوچستان اور سندھ میں منعقد ہوں گی تاکہ اقوام متحدہ سے وابستہ تمام تنظیمیں اور ممالک سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد ایک سو چھپن سے تجاوز کر گئی ہے لیکن نال خاران، نصیر آباد، آواران اور دیگر علاقوں سے آمدہ اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

 اس وقت متاثرین کو عارضی رہائش فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ علاقے میں شدید گرمی ہے اور آلودہ پانی پینے سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔
اظہر شاہوانی

نال سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ صرف ان کے علاقے میں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک اور لاپتہ ہیں۔

ایچ آر سی پی کے بلوچستان کے سربراہ ظہور شاہوانی ایڈووکیٹ نے ایک ٹیم کے ہمراہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس وقت متاثرین کو عارضی رہائش فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ علاقے میں شدید گرمی ہے اور آلودہ پانی پینے سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

خاران کے ایک سماجی کارکن اعظم ریکی نے بتایا ہے کہ ان کے علاقے میں ساڑھے سات ہزار مکان گر گئے ہیں جبکہ آواران کے ضلع ناظم خیر جان بلوچ نے بتایا ہے کہ اب تک کئی علاقوں سے رابطہ بحال نہیں ہوسکا اور بڑی تعداد میں لوگ کھلے آسمان تلے پڑے ہوئےہیں جنہیں کوئی امداد فراہم نہیں کی جا رہی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد