بند ٹوٹنے سے تیس دیہات زیرِ آب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے اضلاع جعفر آباد اور نصیر آباد کے قریب بند ٹوٹ جانے سے قریباً تیس دیہات زیر آب آ گئے ہیں اور چاول کی فصل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ادھر حکومتی دعوؤں کے مطابق بلوچستان میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد ایک سو چھپن سے تجاوز کر گئی ہے لیکن نال خاران، نصیر آباد، آواران اور دیگر علاقوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ تعداد کہیں زیادہ ہے۔ جعفر آباد کے ضلع ناظم خان محمد جمالی نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ اتوار کی رات شدید بارش سے سیف اللہ کینال کی ایک شاخ پھتوجہ شاخ کا ایک بند ٹوٹ جانے سے کئی دیہات زیر آب آ گئے ہیں اورگنداخہ شہر کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت نور پور شاخ پر دفاعی بند باندھا جا رہا ہے تاکہ گنداخہ کو بچایا جائے۔ پھتوجہ نہر کی لمبائی پینتیس کلومیٹر اور چوڑائی پندرہ کلومیٹر ہے جبکہ گہرائی بارہ فٹ تک ہے۔ بلوچستان میں نصیر آباد جعفرآباد اور دیگر قریبی علاقوں میں آبپاشی کے لیے نہری نظام قائم ہے جو صوبہ سندھ کے نہری نظام سے جڑا ہوا ہے۔بلوچستان سے حالیہ سیلابی ریلوں نے بھی سندھ کا رخ کیا ہے اور ان ریلوں کے بعد سندھ حکومت نے بلوچستان سے آنے والے پانی کے آگے بند باندھ دیا تھا جس کے بعد جعفر آباد اور نصیر آباد کے کئی علاقوں کو خطرات لاحق ہوگئے تھے۔ اس کے علاوہ سیلا ب سے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کے پھیلنے کی اطلاعات ہیں جس کی بڑی وجہ شدید گرمی اور پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی بتائی گئی ہے۔ اکثر علاقے تاحال امداد سے محروم ہیں۔ پنجگور کے علاقہ کلکور اور تربت کے علاقے زعمران سے لوگوں نے فون پر بتایا کہ وہ تاحال بے یار و مددگار پڑے ہوئے ہیں جبکہ پسنی میں حواتین اور بچوں نے بجلی اور پانی کی قلت کے حوالے سے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ ادھر بلوچستان میں حالیہ سیلاب اور بارشوں سے تباہی کے بعد اب اقوام متحدہ اور نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کی چھ ٹیمیں سوموار سے مختلف علاقوں کا دورہ کر رہی ہیں۔ یہ ٹیمیں کے نقصانات کے بارے میں رپورٹ مرتب کریں گی۔ کوئٹہ میں ریلیف کمشنر خدا بخش بلوچ نے بتایا ہے کہ صوبائی حکومت اپنے طور پر بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لے گی اور اس بارے میں مکمل رپورٹ تیار کرے گی۔ اقوام متحدہ اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹِی کی چھ ٹیمیں صوبے کے مختلف علاقوں کا دورہ کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ ان تجاویز کے بعد پھر ایک مرکزی ڈونر کانفرنس اسلام آباد میں اور دو کانفرنس بلوچستان اور سندھ میں منعقد ہوں گی تاکہ اقوام متحدہ سے وابستہ تمام تنظیمیں اور ممالک سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔ | اسی بارے میں بلوچستان:امدادی کارروائیوں پر زور 08 July, 2007 | پاکستان بلوچستان میں ڈیڑھ لاکھ افراد بےگھر07 July, 2007 | پاکستان طوفان سے زلزلے جتنا نقصان: مشرف07 July, 2007 | پاکستان سیلاب کے متاثرین، امداد کے منتظر07 July, 2007 | پاکستان بلوچستان: امدادی کارروائیاں، بیماریاں05 July, 2007 | پاکستان 200 سےزائدہلاک، سینکڑوں لاپتہ03 July, 2007 | پاکستان گیارہ لاکھ متاثرین، امداد کی اپیل نہیں02 July, 2007 | پاکستان بلوچستان کے سیلابی ریلے کی سندھ میں تباہی02 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||