BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 August, 2007, 16:45 GMT 21:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیلاب کے بعد امدادی کارروائیاں
جنوبی ایشیا
انڈیا اور بنگلہ دیش کے بعض علاقوں میں کشتیوں کی رسائی بھی نہیں ہے۔
جنوبی ایشیا میں تباہ کن سیلاب سے متاثرہ لاکھوں افراد کی بحالی کے لیے حکومتوں اور عالمی ایجنسیوں نے امدادی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

شدید بارشوں کے بعد اس سیلاب کے نتیجے میں شمالی بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال میں دو سو ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ اس ضمن میں فلاحی ادارے ’سیو دی چلڈرن نے خوراک اور دوائیوں کے عطیات کے لیے اپیل کی ہے۔

نیپال میں نکاسیِ آب اور صفائی کی وجہ سے صورتِ حال بہتر ہونا شروع ہو گئی ہے جبکہ بقیہ خطے میں تمام دیہی علاقوں میں حالات خراب ہیں جہاں آبادیوں تک خشک خوراک اور صاف پانی کی فراہمی منقطع ہو گئی ہے۔

اس ضمن میں جنوبی ایشیا میں بی بی سی کے نمائندے ڈیمین گرامیٹیکس کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش اور بھارت کی حکومتیں متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں مگر بعض جگہوں پر کشتیوں کی رسائی بھی نہیں ہو پا رہی ہے جس کی وجہ سے امدادی سامان ہیلی کاپٹروں کے ذریعے گرایا جارہا ہے۔

 بنگلہ دیش کے 64 میں سے 41 ضلعے سیلاب کی لپیٹ میں آئے ہیں اور دارالحکومت ڈھاکہ کے کچھ علاقے زیرِ آب آگئے ہیں۔

اے پی کے ایک نمائندے کے مطابق اب تک مشرقی اترپردیش کے دو ہزار دوسو علاقوں میں بیس لاکھ افراد کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے خوراک پہنچائی جاچکی ہے۔

اس سیلاب سے شمالی اترپردیش، بہار اور شمال مشرقی آسام سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں بہار کے چیف سیکریٹری اے کے چودھری نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کے نمائندے کو بتایا: ’ایسی صورتِ حال پچھلے تیس سالوں میں کبھی نہیں ہوئی۔

بنگلہ دیش کے 64 میں سے 41 ضلعے سیلاب کی لپیٹ میں آئے ہیں اور دارالحکومت ڈھاکہ کے کچھ علاقے بھی زیرِ آب آگئے ہیں۔ ایک صحافی کے مطابق ہزاروں فوجی اہلکار اور رضاکار امدادی سامان تقسیم کر رہے ہیں جو نکاسیِ آب کے آلات، خوراک اور دوائیوں پر مشتمل ہے لیکن ان کارروائیوں میں رکاوٹ کی بڑی وجہ کشتیوں کی کمی ہے۔

اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے یونیسیف کے ترجمان کا کہنا ہے کہ: ’محفوظ پناہ گاہوں، پینے کے پانی، خوراک، ایمرجنسی دوائیوں اور بنیادی گھریلو ضرورت کی اشیا کی اس وقت شدید ضرورت ہے کیونکہ صحت کی بنیادی سہولتیں اور ہسپتال مخدوش حالت میں ہیں۔

ایک اور فلاحی ادارے سیو دی چلڈرن نے سیلاب سے تباہ حال بچوں اور ان کے خاندانوں کے لیے مالی امداد کی اپیل کی ہے۔ اس ادارے کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں ایک کروڑ چالیس لاکھ اور بنگلہ دیش میں ستر لاکھ افراد کی زندگیاں اس سیلاب سے تہس نہس ہو گئی ہیں۔ ہزاروں گھر منہدم ہو گئے ہیں، پانی کا نظام آلودہ ہو گیا ہے جس کے باعث پانی کی متعدی بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ لاحق ہو گیا ہے۔

 حکومت کے ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق اب تک کم ازکم بھارت میں 125 اور بنگلہ دیش میں 64 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دلی سے بی بی سی کے نمائندے کے مطابق سیلاب کا پانی تیزی سے ایک بڑے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ لوگوں نے اپنے گھروں کی چھتوں اور درختوں پر پناہ لی ہوئی ہے، کچھ اپنے خاندان کو محفوظ علاقوں میں منتقل کر رہے ہیں جبکہ بچوں اور مویشیوں کو بالائی سطح کے علاقوں میں پہنچایا گیا ہے۔

حکومت کے ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق اب تک کم ازکم بھارت میں 125 اور بنگلہ دیش میں 64 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بیس دنوں سے جاری شدید بارش کے باعث کچھ دریاؤں میں پانی کی سطح نو سے دس میٹر تک بلند ہو گئی ہے جس کی وجہ سے پانی دریاؤں کے کناروں سے باہر آرہا ہے اور وسیع علاقہ زیرِآب آگیا ہے۔

بھارت کے سرحدی علاقے جنک پور میں موجود بی بی سی کے نمائندے مارک ڈمیٹ نے بتایا کہ نیپال میں اس خوفناک سیلاب سے ڈھائی لاکھ افراد کی زندگیاں متاثر ہوئی ہیں تاہم کئی ہفتوں کی مسلسل بارش کے بعد اب حالات نارمل ہو رہے ہیں۔

مارک کے مطابق ملک کے بعض دیہی علاقوں میں ٹوٹے ہوئے پلوں اور خراب سڑکوں کی وجہ سے ابھی بھی صورتِحال خراب ہے جہاں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امدادی سامان پہنچایا جارہا ہے جبکہ میڈیکل عملہ اور خوراک کی فراہمی حال ہی میں بحال ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
جنوبی ایشیاء کو بش سے امیدیں
05 November, 2004 | صفحۂ اول
بارشیں اور ہزار برس
27.07.2002 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد