جنوبی ایشیا:سیلاب سےدو کروڑ بےگھر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ایشیا میں بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال میں سیلاب اور مون سون کی بارشوں کے نتیجے میں قریباً ڈیڑھ سو افراد ہلاک اور دو کروڑ کے قریب بےگھر ہوگئے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق یہ سیلاب حالیہ تاریخ کا بدترین سیلاب ہے۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں شدید دشواری پیش آ رہی ہے جبکہ امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ علاقے میں خوراک اور صاف پانی کی شدید قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ اس علاقے میں گزشتہ بیس دن سے موسلادھار بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے اور طوفانی بارش اور سیلاب سے ان تینوں ممالک میں ہزاروں دیہات اور بڑے پیمانے پر زرعی زمین زیرِ آب آ گئی ہے۔بنگلہ دیش اور شمالی بھارت میں بہنے والے متعدد دریاؤں کا پانی خطرے کے نشان کی حد کو چھو رہا ہے جبکہ کچھ جگہ پر پانی کنارے توڑ کر باہر نکل آیا ہے۔ سیلاب سے بھارت میں قریباً ایک کروڑ چالیس لاکھ، بنگلہ دیش میں پچپن لاکھ جبکہ نیپال میں ساڑھے سات لاکھ سے زائد افراد یا تو بے گھر ہوگئے ہیں یا سیلابی پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔ غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق صرف بھارتی ریاست بہار میں سیلاب میں ڈوبنے اور طبی سہولیات کی عدم دستیابی سے کم از کم ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم حکومت نے اب تک پورے بھارت میں ایک سو بیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ بنگلہ دیش کے حکام ہلاکتوں کی تعداد پچپن بتا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں تک مکمل رسائی نہ ہونے کی وجہ سے ان اعدادوشمار میں اضافے کا حدشہ ہے۔ بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں جولائی کے مہنے میں تین فٹ بارش ریکارڈ کی گئی ہے اور دلی میں بی بی سی کے نمائندے ڈیمئن گرامیٹیکس کے مطابق ریاست میں خوراک، پناہ اور ادویات کے منتظر عوام اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ ریاست اترپردیش میں پانچ سو دیہات سے متاثرہ افراد کو نکالنے کے لیے فوج کی مدد حاصل کی گئی۔ ریاست کے زیادہ متاثرہ اضلاع میں گورکھ پور اور کوشینا نگر شامل ہیں۔ تاہم اب ان علاقوں میں دریاؤں کے پانی میں مزید اضافہ نہیں ہو رہا ہے۔
ریاست بہار کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ منوج شریواستو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سیلاب کی صورتحال خاصی سنگین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہار میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایک سو اکیس ریلیف کیمپ اور چونتیس مویشی کیمپ بنا دیے گئے ہیں۔ بہار اور آسام میں سیلاب کی وجہ سے راستے زیرِ اب آگئے ہیں جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات درپیش ہیں۔ فوج متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹروں کی مدد سے امدادی سامان پہنچا رہی ہے تاہم امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں اشیائے خورد ونوش کی قلت پیدا ہونا شروع ہو گئی ہے۔ ادھر بنگلہ دیش میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لاکھوں افراد اپنے گھروں کی چھتوں اور انچے مقامات پر امداد کے منتظر ہیں۔ دارالحکومت ڈھاکہ سے ایک سو دس کلومیٹر دور سراج گنج کا علاقہ سیلاب سے بری طرح متاثر ہوا ہے اور یہاں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ اس سیلاب میں ان کا تمام مال و متاع بہہ گیا ہے۔ ایک متاثرہ شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ’ ہم اس امدادی پناہ گاہ میں شدید مصیبت کا شکار ہیں۔ سیلاب نے ہمارا سب کچھ تباہ کر دیا اور ہم کچھ نہیں بچا سکے‘۔
بنگلہ دیشی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان حالات سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے تاہم ڈھاکہ میں بی بی سی کے نمائندے جان سڈورتھ کے مطابق امدادی کارروائیاں نہ ہونے کے برابر ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو صرف چند بسکٹ اور چاول فراہم کیے گئے ہیں۔ نیپال میں ہمالیہ کے پہاڑوں سے نکلنے والے کئی دریاؤں کا پانی بند توڑ کر باہر نکل آیا ہے اور ملک کے ترائی علاقے میں پھیل گیا ہے۔ بھارتی ریاست بہار اور اتر پردیش سے متصل یہ علاقہ سیلابی پانی کی زد میں ہے۔ کھٹمنڈو میں بی بی سی کے نمائندے کے مطابق نیپال میں کچھ لوگ سیلاب کے لیے بھارت کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ نیپال میں سیلاب کی وجہ یہ ہے کہ بھارت نے اپنی جانب سے ڈیموں کے دروازے بروقت نہیں کھولے جبکہ بھارتی ریاست اترپردیش کے حکام نیپال سے آنے والے پانی کو ریاست میں سیلاب کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں سیلاب: ہلاکتیں اور سیاست02 August, 2007 | انڈیا کشتی الٹنے سے اٹھائیس ہلاک01 August, 2007 | انڈیا بہار: سیلاب سے11 لاکھ افراد متاثر 28 July, 2007 | انڈیا بہار: سیلاب میں ہلاکتوں کا خدشہ25 July, 2007 | انڈیا بہار میں بارش سے لاکھوں افراد متاثر23 July, 2007 | انڈیا راجستھان: 38 دیہاتوں کو خطرہ07 July, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||