سیلاب: کروڑوں امداد کے منتظر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال میں جہاں حالیہ سیلاب سے دو سو چالیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں، لاکھوں متاثرین کو انتہائی نامساعد حالات کا سامنا ہے۔ بھارت کی ریاست بہار میں کئی لاکھ افراد سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں انھیں خوراک اور ادویات کی قلت کا سامنا ہے اور امدادی ادارے کو ان تک امداد پہنچانے میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ بھارت کی ریاست آسام میں حکام اس بات کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ملیریا اور دیگر بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ ہے۔ نیپال میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانی اتر گیا ہے لیکن ان علاقوں میں پل ٹوٹے ہوئے ہیں اور کئی جگہوں پر سڑکیں بہہ گئی ہیں۔ امدادی اداروں نے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے عالمی سطح پر مدد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ بچوں کو امداد مہیا کرنے کی عالمی تنظیم ’سیوے دی چلڈرن‘ کے اندازوں کے مطابق ایک کروڑ چالیس لاکھ افراد بھارت میں اور ستر لاکھ افراد بنگلہ دیش میں سیلاب سے ہونے والی تباہیوں کا سامنا کررہے ہیں۔
بھارت کی ریاست بہار میں بھارتی فضائیہ کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں تک آٹا، چینی، خشک دودھ اور دوسری اشیاء پہنچا رہے ہیں۔ ان علاقوں میں ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں اور ان میں دس لاکھ کے قریب کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں اور سترہ ہزار گھر پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نے اپنی کابینہ کے اراکین کو ہدایت کی ہے کہ امدادی کارروائیوں کی نگرانی کرنے کے لیے متاثرہ علاقوں میں جائیں۔ نتیش کمار نے کابینہ کے ارکان کو کہا ہے کہ وہ حالات کے معمول پر آنے تک متاثرہ علاقوں میں جا کر رہیں اور وہاں امدادی کارروائیوں کی نگرانی کریں۔ تاہم پانی کے اتر جانے تک بہت سے علاقوں تک پہنچنا مشکل ہے۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ترون گوگی نے برطانوی خبر رساں ادارے کو رائٹرز کو بتایا کہ انہیں اس بات پر شدید تشویش ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانی کے اترنے اور درجہ حرارت بڑھنے سے بیماری پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اتر پردیش میں بیس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ ڈھائی لاکھ ایکڑ پر فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ تاہم نشیبی علاقوں جن میں بنگلہ دیش بھی شامل ہے پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بھارت میں حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے پاس خوراک اور ادویات کا کافی ذخیرہ موجود ہے اور اسے کسی قسم کی بین الاقوامی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔ نیپل کے سرحدی قصبے جنکپور میں موجود بی بی سی کے نمائندے مارک ڈممٹ نے کہا ہے کہ نیپال میں پانی کی سطح کم ہورہی ہے اور لیکن ابھی موسون کا موسم پوری طرح ختم نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راتوں کو اکثر ہونے والی گرج چمک سے لوگ خوف زدہ ہو کر سکول کی عمارتوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ نیپال کے بیشتر علاقوں میں پل گر گئے ہیں اور سڑکیں بہہ گئی ہیں۔ حکومت اور بین الاقوامی امدادی اداروں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچے میں دشورایاں پیش آ رہی ہیں۔ ان علاقوں میں لوگوں کو خوراک اور ادوایات مہیا کی گئی ہیں لیکن ان لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ امداد ناکافی ہے۔ نیپال کے جنوبی علاقوں میں ہر سال سیلاب آتے ہیں لیکن سیلاب سے اس سال ہونے والی تباہی نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔ | اسی بارے میں جنوبی ایشیا:سیلاب سےدو کروڑ بےگھر02 August, 2007 | آس پاس انڈیا: سیلاب سے بڑی تباہی، ہلاکتیں03 August, 2007 | آس پاس سیلاب کی فتح02 August, 2004 | آس پاس سیلاب سے دو کروڑ افراد بےگھر03 August, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: مدد کے لیے اپیل03 August, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||