انڈیا: سیلاب سے بڑی تباہی، ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے شمالی، شمال مشرقی اور مشرقی علاقے زبردست سیلاب کی زد میں ہیں۔ اترپردیش، بہار، مغربی بنگال اور آسام سے اموات کی خبریں ہیں۔ اترپردیش کے مشرقی علاقوں میں بھی مسلسل بارش کے سبب کئی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔ مانسونی بارش اور سیلاب میں مرنے والوں کی تعداد سرکاری طور پر ڈیڑھ سو سے زیادہ بتائی گئی ہے جبکہ غیرسرکاری اعداد وشمار اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ ریاست اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش میں بھی گزشتہ کئی دنوں سے بارش کے سبب کئي مقامات پر ہزاروں سیاح اور دوسرے لوگ پھنس گئے ہیں۔ دہرہ دون میں کئی مقامات پانی کی زد میں آکئے ہیں۔ ادھر آسام میں صورتحال انتہائی تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ بعض مقامات پر ہیلی کاپٹر کی مدد سے متاثرہ لوگوں تک کھانے کے پیکٹ پہنچائے گئے ہیں۔ مغربی بنگال کی صورتحال بھی مختلف نہیں ہے۔ ریاست کے بیشتر علاقوں میں گزشتہ کئی دنوں سے بارش ہو رہی ہے۔ بہار میں بگڑتی ہوئی صورتحال حکومت کی جانب سے اب فوڈ پیکیٹ کی ایئر ڈراپنگ کی بات کی جا رہی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق جن سیلاب زدہ میں سڑک یا کشتی سے پہنچنا مشکل ہے وہاں فوج کے ہییلی کاپٹر سے کھانے کے پیکیٹ پہنچانے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ماریشس کے دورے سے جمعرات کو پٹنہ لوٹنے کے بعد اپنے وزراء کے ساتھ میٹنگ کی اور اب وہ فضائی اور زمینی معائنہ کریں گے۔ ریاست کے گورنر آر ایس گوئی نے ریڈ کراس سوسائٹی، غیر سرکاری تنظیموں اور دیگر امدادی اداروں سے مدد کی اپیل کی ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق سیلاب سے جمعرات تک اکتالیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ آزاد ذرائع یہ تعداد ڈیڑھ سو سے زائد بتا رہے ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے ا پنا گھر بار چھوڑ کر جو لوگ پشتوں اور ریل لائنوں جیسی کھلی جگہ میں چوکی اور پالیتھین شیٹ کے سہارے جی رہے ہیں انکے سامنے پورے خاندان کو بنا کسی پرائویسی کے رہنے کی مجبوری ہے۔ اسی مجبوری میں رہ رہی مظفرپور کے اورائی علاقے کی ایک خاتون کا کہنا تھا: ’کسی طرح بھونجا پھانک کر ایک ہی پنّی (پلاسٹک شیٹ) کے نیچے بیٹے، بیٹی اور بہو کے ساتھ نرک بھوگ رہے ہیں۔‘ ہر طرف پانی سے گھرے لوگوں کے لۓ پینے کا پانی تلاش کرنا بھی بےحد مشکل کام ہے۔ تمام چاپا کل پانی میں ڈوب چکے ہیں اور کنوؤں میں بھی ندی کا پانی بھر چکا ہے۔ ایسے میں سیلاب زدہ افراد کو کئی کیلو میٹر چل کر پانی لانا پڑ رہا ہے۔ علاج کے لۓ مظفرپور پہنچی ایک بزرگ خاتون نے بتایا کہ گاؤں میں کوئی معالج ملا نہیں اور شہر آنے کے لۓ کشتی والے پانچ روپے کی جگہ پچاس روپے وصول رہے ہیں۔اس خاتون نے بتایا کہ وہ اپنی ’ہنسولی‘ گروی رکھ کر ضروری پیسوں کا انتظام کرکے شہر آئی ہیں۔ اسی طرح موتیہاری کے کئی علاقوں سے یہ خبر ملی کہ سیلاب کی وجہ سے حاملہ عورتوں کو تولد کے وقت خاطر خواہ طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے کئی نوزائیدہ بچوں کی جانیں چلی گئیں۔ سیلاب کی وجہ سے جب سمستی پور اور دوسری جگہوں پر ریل سروس منقطع ہوئی تو مسافروں کو رات اسٹیشنوں پر گزارنی پڑی۔ ایسے لوگ دن میں دس دس گھنٹے پیدل چل کرنزدیک کے اپنے رشتہ داروں تک پہنچے۔ ممبئی میں بارش سے زندگی درہم برہم
الکا مہاڈیشور کو گھاٹ کوپر سے وی ٹی آنے کے لیے تین گھنٹے لگے کیونکہ سیٹرل ریلوے کی پٹریوں پر پانی بھرا تھا۔ مس ایس مانکیہ روزانہ کرلا سے چرچ گیٹ آنے کے لیے بس کے ذریعہ سفر کرتی ہیں لیکن بسیں جگہ جگہ پانی بھرے ہونے کی وجہ سے کافی رک رک کر چل رہی تھیں اور وہ اسی وجہ سے کام پر دیر سے پہنچیں۔ ممبئی کی لائف لائن یعنی لوکل ٹرینوں کی سروسز متاثر ہوئی ہیں۔ ریلوے ذرائع کے مطابق سینٹرل ریلوے کی گاڑیاں پٹریوں پر پانی بھرا ہونے کی وجہ سے رک گئی ہیں۔ ویسٹرن ریلوے کی گاڑیاں آدھا گھنٹہ تاخیر سے چل رہی ہیں۔ ممبئی میں جگہ جگہ پانی بھرنے کی وجہ سے شہر کے کئی سکولوں اور کالجوں نے چھٹی کا اعلان کر دیا۔ ایئر پورٹ حکام کے مطابق موسلا دھار بارش کی وجہ سے ہوائی پروازوں پر بھی اثر ہوا ہے۔ آسمان میں ابر کی وجہ سے پروازوں میں تاخیر ہو رہی ہے۔ ممبئی اور اس کے مضافات میں بدھ کی رات سے ہونے والی بارش کی وجہ سے سکولوں نے چھٹی کا اعلان کر دیا ہے۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں قلابہ میں104 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہوئی جبکہ ممبئی کے مضافات سانتا کروز میں 86.6 ملی میٹر بارش ہوئی۔ محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ اڑتالیس گھنٹوں میں اسی طرح موسلا دھار بارش ہونے کے امکانات ہیں۔ محمکہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ممبئی کے علاوہ یہ بارش اب گوا اور کوکن کے ساحلوں تک پہنچے گی جہاں گھن گرج اور طوفانی ہواؤں کے ساتھ بارش ہونے کا امکان ہے۔ میونسپل کارپوریشن میں محکمۂ صحت افسر کے مطابق بارش سے ہونے وبائی بیماریوں کی وجہ سے اب تک 86 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز چار افراد کی موت واقع ہوئی ان میں ایک لیپٹوپائریسیس، دو کم سن بچے وائرل بخار اور ایک عورت کی ملیریا کی وجہ سے موت واقع ہوئی۔ دارالحکومت دلی میں بھی کچھ وقفے کے بعد جمعرات کو زبردست بارش ہوئی اور جمعہ کو بھی رک رک کر بارش ہوتی رہی۔ جمعرات کو دلی کے بیشتر علاقوں میں پانی بھر گیا اور ٹریفک کا پورا نظام درہم برہم رہا۔ |
اسی بارے میں سیلاب: ہلاکتیں اور سیاست02 August, 2007 | انڈیا کشتی الٹنے سے اٹھائیس ہلاک01 August, 2007 | انڈیا بہار: سیلاب سے11 لاکھ افراد متاثر 28 July, 2007 | انڈیا بہار: سیلاب میں ہلاکتوں کا خدشہ25 July, 2007 | انڈیا بہار میں بارش سے لاکھوں افراد متاثر23 July, 2007 | انڈیا راجستھان: 38 دیہاتوں کو خطرہ07 July, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||